فرعون کا دریائے نیل میں غرق ہونے کا کوئی ارادہ تو نہیں تھا۔ مگر اُسے ڈوبنا پڑا۔ اُس نے اپنے غلاموں سے اپنے ارد گرد قلعے کی دیواریں اونچی اور نہایت مضبوط بنوائیں تاکہ اُسے کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔ لیکن غرق ہونے کے لیے خود چل کر دریا تک گیا تھا۔ خُدائی کا دعویدار بھی رہا لیکن سچے خُدا نے رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان بنادیا۔ شداد اگلے کروڑوں سال اپنی جنت میں مزے اُڑانا چاہتا تھا۔ مگر اُس کے دروازے پر پہنچتے ہی مر گیا۔ نمرود کی پلاننگ بھی کافی لمبی تھیں۔ اُس کی صدیوں حکومت کرنے کی خواہش کو ایک مچھر نے ختم کر دیا۔ چنگیز خان بھی اپنے زمانے کی سب سے بڑی سلطنت کا مالک تھا ۔ طاقت اور اختیار کے نشے میں ایسا مست کہ کہا جاتا ہے کہ چالیس ملین لوگوں کا قاتل تھا اور اِس قتل و غارت گری کے نتیجے میں اُس وقت دنیا کی آبادی کا گیارہ فیصد حصہ ختم ہوگیا تھا۔ چنگیز خان ظلم و بربریت کی نشانی کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ گھوڑے پر بیٹھ کر علاقوں کے علاقے فتح کرتا اور لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتا اُن کا قتلِ عام کرتا چنگیز...
Popular posts from this blog
آپریشن بُنیان مرصوص۔ Bunyaan Marsoos
By
آزادیِ اظہار
اب دنیا میں پاکستان ایک الگ حیثیت سے ابھرے گا"۔" !ان شاء اللہ بہادری و شجاعت بہادر اور نڈر قوم کی ضمانت ہوتی ہے۔ پاکستان عرصہِ دراز سے مختلف مسائل میں گھرا تھا۔ معاشی بحران ہو یاں امن و امان کی صورتِ حال۔ دشمن نے بھی ہمیں اندرونی بیرونی مسائل اور لڑائیوں میں الجھائے رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ پاکستان کا وجود دشمنوں کی آنکھ میں کس طرح کھلتا ہے اِس بات سے ہم سب واقف ہیں اور ہم خود بھی عرصہ دراز سے انڈیا کی مکاری و عیاری دیکھتے آرہے ہیں۔ اس کا اندازہ اس جنگ کے دوران بھی ہماری عوام کو بہ خوبی ہوگیا ہوگا کہ کس طرح پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے کون کون سے ممالک بھارت کے ساتھ کھڑے تھے ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ جب اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو تو دشمن آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ آج دنیا نے پاکستان کی افواج کی بالخصوص ہماری پاک فضائیہ کی قابلیت کے نظارے دیکھے۔ کہ کس طرح انھوں نے پاکستان کا دفاع کیا۔اپنا نقصان روک کر دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ یہ محض جنگ کے چند دن نہیں تھے بلکہ یہ اِس دور کی بہت بہت بہت بڑی ض...
فرسودہ نظام
By
آزادیِ اظہار
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو میں بیزار ہوں ہر اُس اقدار سے ہر اس تہذیب سے ہر اس روایت, رسم, ریت , رواج سےجو کسی ایک کو دوسرے پر اتنا اختیار دے کہ وہ سامنے والے کی زندگی اور موت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے لے۔ مجھے نفرت ہے ہر اُس مرد سے جو عورت کو بس سزا دینا اپنا اختیار اور حق سجھتا ہے۔ بلکہ اُس کا فرض تو عورت کی حفاظت کرنا ہے۔ عورت نے مرد کے مذاج کے خلاف کچھ کیا ہے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے اُس سے تو اسے سزا دی جائے۔ پھر وہ سزا کسی بھی قسم کی کیوں نہ ہو۔ نہ نہ۔ ایسی کوئی اجازت کسی کو کسی نے نہیں دی نہ دین نے نہ شریعت نے نہ ریاست نے۔ انسان کی جان پر صرف و صرف اگر حق ہے تو اللہ باری تعالی کا ہے اول تا آخر۔ اسلام نے جو رشتے بنائے وہ ایک دوسرے سے حقوق کی بنیاد پر جُڑتے ہیں نہ کہ دھونس اور جبر کی بنیاد پر۔ میں تمھارا مالک ہوں لہذا میں تھاری جان لے سکتا ہوں۔ ❌❌❌❌❌❌❌❌❌ نہیں ۔۔۔ ظلم کے لیے کوئی بھی وجہ قابلِ قبول نہیں اسلام صرف ہمیں رشتوں کا احترام سکھاتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ...