Posts

Showing posts from December, 2019

Kids Early Education

Image
دوڑِ لا حاصل ہیں ؟ ؟کیا ؟؟ اوہ ماٸ گاڈ   آٹھ سال کا اور  ٹو کلاس میں ؟ چہ چہ چہ میرا بچہ تو جب اتنے سال کا تھا تو  کلاس فور میں تھا۔۔ اپنا آپ عجیب گناہ گار ٹاٸپ فیل ہورہا تھا کہ ہیں یہ بھی کوٸ ایشو ہے  کل ایک خاتون سے ملنے کا اتفاق ہوا ۔ وہ ہی خواتین کی روایتی فکروں والی گفتگو سے آغاز ہوا کہ تمہارا بچہ کون سی کلاس میں ہے کون سےاسکول میں اور کتنے سال کا ہے۔ ہمارے ہاں بھی جینے کے معیار نرالے ہیں اسکول مافیانے اپنی جیبیں بھرنے کے لیۓ ایک سسٹم بنایا ہے اور سب اندھا دھند اسی کےپیچھے بھاگے جا رہے ہیں بھاگے جارہےہیں۔ اچھابھٸ کیا یہ ہی جینے کا معیار رہ گیا ہے  ہمارے ہاں ؟ کہ ایک مخصوص عمر میں اسکول جانا ہے نہ داخل کروایا تو قانون  کوئی سزا دے نہ دے یہ ہمارا معاشرہ ضرور سولی ٹانگ دے گا اس گناہ کی پاداش میں۔ نہیں میرا ایک سوال ہے آپ بتاٸیں کہ کالج میں ایڈمیشن کے وقت کس نے آپ سے پوچھا تھا کہ کس عمر میں اسکول داخل ہوۓ؟ یاں کس عمر میں میٹرک کیا تھا؟ آگے تعلیمی میدان کے دور کے کس مرحلے میں اس کی بابت پوچھا جاتا ہے؟ یونیورسٹی کے ایڈمیشن کے وقت ؟ جاب ...

قائدِ اعظم کی دور اندیشی ایک آزاد وطن کا تحفہ

Image
تقسیم سے پہلے  ہندوستان کے تمام مسلمان ہندوستان کو ہی اپنا دیس مانتے تھے دو قومی نظریہ ابھی جنم نہیں لیاتھا,  جب  قاٸدِ آعظم نے کانگرینس  میں شمولیت اختیار کی اور  اُس کے چند ہی سال بعد کےعرصے میں  قائد کو باخوبی اندازہ ہویا تھا کہ مسلمانوں کا یہاں ایک ساتھ گزارا ممکن نہیں۔  دونوں کی طرزِ  زندگی  میں رہن سہن  میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ اُن کا ماننا تھا کہ آزادی ہر ایک کا بنیادی حق ہے اور  متحدہ ہندوستان میں  مسلمانوں کو سیاسی,سماجی ,اقتصادی ,معاشی اور مذہبی  خودمختاری  نہیں ہوگی۔  قائد کے نظریے کے مطابق وہاں مسلمانوں کے حقوق اس طرح محفوظ نہیں رہ سکیں گے جیسے ایک علیحدہ وطن میں ممکن ہوگا۔   انگریزوں کے آنے سے پہلے اقتدار مسلمان کے پاس تھا تب وہاں اُن کی پوزیشن مختلف  اور مضبوط تھی۔    لیکن جب یہ اقتدار انگریزوں سے ہندوٶں کو نتقل ہوگا کیوں کہ وہ وہاں اکثریت تھے , تب صورتِ حال مختلف ہوگی۔  جناح صاحب نے مسلمانوں کی بھلاٸی دیکھتے ہوۓ دوقومی نظریے کی بھرپور حمایت کی اور مسلمانوں میں یہ ش...

لاہور میں وکلاء اور ڈاکٹرز کا تصادم ایک سبق آموز واقعہ

Image
    PIC  لاہور میں وکلاء اور ڈاکٹرز کا تصادم  دسمبر 2019 میں لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (PIC) میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے ہسپتال پر دھاوا بول دیا اور توڑ پھوڑ کی۔ آج 2026 میں ہم اس واقعے کو پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو بہت سے سبق سیکھنے کو ملتے ہیں۔  آخر یہ سب کیوں ہوا اور اس سے ہمیں کیا نصیحت ملتی ہے۔ واقعہ کیسے شروع ہوا؟ یہ سارا جھگڑا ایک چھوٹی سی بات سے شروع ہوا تھا۔ نومبر 2019  میں ایک وکیل کی والدہ  PIC  میں داخل تھیں۔ وہاں ڈاکٹروں اور وکلاء میں تلخ کلامی ہوگئی۔ دونوں طرف سے تھانے میں درخواستیں دی گئیں۔ اس کے بعد ڈاکٹروں نے ایک ویڈیو بنائی جس میں وکلاء کا مذاق اڑایا گیا، یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ اسی ویڈیو کے جواب میں 11 دسمبر 2019 کو  200  سے زائد وکلاء نے  PIC  پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے ایمرجنسی وارڈ کے شیشے توڑ دیے، مشینری کو نقصان پہنچایا اور باہر کھڑی گاڑیوں اور پولیس وین کو آگ لگا دی۔ اس واقعے کا سب سے بڑا نقصان کیا ہوا؟ اس...