Posts

Showing posts with the label کہانی

May2025 کی صورتِ حال پر ایک نظر۔ امید کی کرن

Image
اب دنیا میں پاکستان ایک الگ  حیثیت  سے ابھرے گا"۔" !ان شاء اللہ بہادری و شجاعت بہادر اور نڈر قوم کی ضمانت ہوتی ہے۔ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان صورتحال پر دنیا کی نظریں رہیں۔ پاکستان اس سے پہلے بھی کئی چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے، چاہے وہ معاشی ہوں یا امن و امان کے حوالے سے۔ مشکل وقت میں قوم کا ایک ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس دوران پاکستانی قوم میں اتحاد اور یکجہتی دیکھی گئی، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ لوگوں نے آپس کے اختلافات کو بھلا کر اپنے ملک کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ پاک افواج نے ملک کے دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ آج دنیا نے پاکستان کی افواج کی بالخصوص ہماری پاک فضائیہ کی قابلیت کے نظارے دیکھے۔ کہ کس طرح انھوں نے پاکستان کا دفاع کیا۔ اور اللہ کی مدد کے ذریعے ایسا ہی ہوا۔ دنیا کو جو پیغام  پہنچا برسوں سے بکھری ہوئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار پاکستانی قوم اس دوران یکجا دکھائی دی۔ یہ بڑی کامیابی ہے ۔   لوگ آپسی اختلافات کو پس  پشت ڈال کر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر  اپنی افواج کے ساتھ کھڑے...

ایک دوسرے کو برداشت کیجیے۔

Image
سانحہ ڈسکہ ایک دوسرے کو برداشت کیجیئے پچھلے دنوں ڈسکہ شہر میں دل کو دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ جس میں ساس , نند  نے  خاندان کے دو آدمیوں کے ساتھ مل  کر  اپنی سات ماہ کی حاملہ بہو  زہرہ قدیر کو  منہ پر تکیہ رکھ کر مار دیا پھر  باڈی کے ٹکڑے کر کے اور شناخت مٹانے کے لیے سر کو تن سے علیحدہ کر کے چولہے پر جلایا   اور نالے میں بہا دیا۔ زہرہ کی جان لینے میں ملوث اس کی ساس , نند ,نند کا بیٹا اور ایک رشہ دار پولیس کی  زیرِ حراست ہیں۔ پڑھ کر اندازہ کیجیے کہ کس قدر ظالم اور سفاک لوگ تھے ۔  دھیان میں رکھیے گا کہ یہ  عورت صرف  ساس نہیں بلکہ  زہرہ کی سگی خالہ بھی تھی۔ زہرہ کا شوہر سعودیہ میں مقیم تھا ۔ زہرہ بھی شوہر اور ڈھائی سالہ  بیٹے کے ساتھ سعودیہ میں ہی رہتی تھی لیکن اکثر پاکستان بھی آتی رہتی تھی اور اس واقعہ سے پہلے اپنے والد کے ساتھ اپنے میکے میں رہ رہی تھی کہ ساس اور نند نے دھوکے سے اپنے گھر بلایا اور مار دیا۔ بیٹی سے جب کچھ دن تک فون پر والد کا رابطہ نہ ہوسکا تو انھوں نے پولیس میں رپورٹ لکھوائی جس کے بعد اصل کہانی ...

Ichra Market incident

Image
ہر گزرتے دن حالات و واقعات دیکھ کر لگتا ہے کہ  ہمارے ملک کا معاشرہ کہاں کھڑا ہے؟ جیسے یہاں ایک دوسرے پر جینا ہم تنگ سا کرتے جا رہے ہیں۔  جیسے ایک دوسرے کو اپنی سوچ و فکر کے لحاظ سے قید کرنا چاہتے ہیں۔ میرا خیال درست میرا طریقہ صحیح میری ہی فکر برحق  اِس سب میں شخصی آزادی کہاں گٸ؟ کل ٢٥ فروری دوپہر کے وقت لاہور اچھرہ مارکیٹ میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے کہ بازار میں ایک خاتون  جو لباس زیب تن کی ہوٸی  تھیں اس میں عربی الفاظ کندہ تھے۔ لوگوں نے یہ منظر دیکھ کر عورت پر شور مچانا شروع کردیا کہ یہ قرآنی آیات ہیں اور توہین کے زمرے میں ڈال دیا۔ بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔ اس عورت کو پکڑ کر نشانِ عبرت بنانے کے لیےایک مجمع لگ چکا ہوتا ہے۔ مختلف ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون  عوام کے نعروں سے شدید خوف زدہ تھیں۔   آناًفاناً پولیس وہاں پہنچی۔ مارکیٹ کے کچھ افراد، دکان دار  اور  مقامی مسجد کے امام صاحب نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوٸے عورت کو عوام  سے بچانے کے لیے دکان کا شٹر گراٸے رکھا ۔ اور پولیس کے پہنچ جانے تک اُس عورت کی مکمل حفاظت کی۔...

سردی سے بچاٶ

Image
یہ آرٹیکل ان ماٶں کے لیے مفید ہے جن کے بچے پیداٸش سے لے کر ایک سال کےدرمیان ہیں۔ کراچی والوں کو موسمِ سرماں کا  شدت سے انتظار رہتا ہے کیونکہ ایک طویل عرصہ یہاں گرمی ڈیرہ ڈالے رکھتی ہے۔لہذا کراچی والے سردیوں کی آمد کا شدت سے انتظار اورخوب اہتمام کرتے ہیں۔ جہاں لوگ سردیاں انجواٸےکر رہے ہوتے ہیں موسم کی مناسبت کے پکوان  سےلطف اندوز ہوتے ہوۓ اور سردیوں کے گرم  پہناوے پہن کر وہیں ماٶں کی فکر یہ ہوتی ہے کہ سردی سے اپنے چھوٹے بچوں کو کیسے بچایا جاٸے۔ بڑھتی سردی میں چھوٹے  بچوں کا خاص خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ خاص طور پر وہ بچے کہ جن کی یہ دنیا میں آنے کے بعد  پہلی سردی ہے۔ نزلےکھانسی کی وجوہات میں کراچی کی گردو غبار آلود  آب و ہوا ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ لہذا سردیوں کے موسم میں نزلے کھانسی طبعیت پر زیادہ اثر انداز  ہوتے ہیں۔ سردیاں چھوٹے بچوں اور بزرگ افراد کے لیے اکثر مشکل کا باعث بن سکتی ہیں آپ کی زرا سی  احتیاطی تدابیر آپ کو اور آپ کے بچوں کو  ان مشکلات سے بچا سکتی ہے۔  چھوٹے بچوں کی قوّتِ مدافیت  وقت کےساتھ ساتھ مضبوط ہوتی ہے۔ جس وجہ سے شی...

ادب

Image
Add caption اللہ کا راستہ ہے بھیڑ انسانوں کی مگر وہ ٣١٣ کا لشکر نہیں ملتا۔ بدرکا مقام ٣١٣ بالمقابل ١٠٠٠ کفار ایمان کی دولت ٣ گنا تعداد پر بھی بھاری تھی ۔ کیوں کہ کیا کیوں کیسے اگر مگر کی عادت نہ تھی۔ اللّہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر سر تسلیمِ خم کرنے والی جماعت تھی۔ منطق یا دلیل مانگنےوالی نہیں۔  اللہ نے  پھر اپنے نبی اور ان کےاصحاب کی مدد فرماٸ فتح سے ہمکنار بھی کروایا ۔  پھر زمین و آسمان نے دیکھا کہ یہ٣١٣ کا لشکر دیکھتے ہی دیکھتے کیسے دنیاپر چھا گیا فتوحات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جس نے اللہ کے پیغام کو ساری دنیا میں عام کیا۔ اللّہ نے اصحابِ رسول کو دنیا میں عزّت بھی عطا کی اور آخرت میں جنّت کی ضمانت بھی دی۔  تمام کے لیے فرمادیا کہ اللہ ان سے راضی ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں دینِ اسلام میں داخل ہونےوالی شخصیات جن کے ایمان کو اور زندگی کو آج ہمارے ہاں ترازو میں تولا جاتا ہے۔ ہمیں اللہ کا راستہ بتانےوالی ذات رب کی پہچان کرانے والی ہستیاں۔ اللہ نے دین اور قرآن ہرانسان کےدل میں ڈاٸیریکٹ نہیں اتار دیا۔ اللہ نے ہر دور میں انسانیت کی بھلاٸ اور رہن...

روٹی

Image
!!روٹی ”بھوکے کو فلسفہ نہیں روٹی چاہیے“ اس کی موت  سے پہلے میں نے اسے خودکشی سے بہت روکا اس نےمجھ سے پوچھا کہ کھانا لاۓ ہو یاں صرف فلسفہ؟ میں نےایک اور دلیل پیش کی کہ زندگی سے ہارنا بزدلی ہے۔ اس نے کہا کہ مگر میرے بچے وہ تو کٸ روز کے بھوکے ہیں۔ میں نے کہا رزق کاضامن تواللّہ ہے۔ کہا,  اللّہ ! کہاں ہے روٹی لایا ہے ؟؟ میں زچ ہوگیا ۔ ایک اور فلسفہ  گھڑ ڈالا۔ کہ اللّہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس نے کہا کیا بھوکوں کے ساتھ بھی؟  میں نے اس کو بہکایا زندگی بہت خوبصورت ہے۔ ہاں جواب دیا جب پیٹ بھرا ہو۔ جب بھوکے بچوں کی چیخیں سماعتوں سے ٹکراتی ہیں تو زندگی بدصورت بن جاتی ہے۔ !! اب میں نے اسے ڈرایا دیکھو خودکشی حرام ہے۔ ھاھاھاھاھا اس نے ایک دردناک قہقہہ لگایا جب زندگی حرام ہوجاۓ تو خودکشی حلال ہوجاتی ہے اور لٹک گٸ۔ تب مجھے مارکس کی کہی ایک کہاوت یاد آٸ کہ جب انسان کا پیٹ خالی ہو تو زندگی کا کوٸ فلسفہ اثر نہیں کرتا۔ یہ طبقاتی نظام جہاں پرصبر کا درس دینے والے زندگی کے حسین نغمے سنانے والے ہمیشہ شکم سیر ہوتے ہیں اور بڑی بڑی گاڑیوں سے اتر...

درود شریف Durood Shareef

Image
درود شریف ایک یہودی کسی مسلمان کا پڑوسی تھا۔ اس یہودی کے ساتھ اس کا مسلمان پڑوسی بہت اچھا سلوک کرتا تھا۔ اس مسلمان کی عادت تھی کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد یہ جملہ کہتا تھا کہ حضرت محمد صل اللّہ علی وسلم پر درود بھیجنے  سے ہر دعا قبول ہوتی ہےاور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے۔ جو کوٸ بھی اس مسلمان  سے ملتا وہ اسے اپنا یہ جملہ ضرورسناتا۔اور جوکوٸ بھی اس کے ساتھ بیٹھتا اسے بھی ایک مجلس میں کٸ بار یہ جملہ مکمل یقین سے سناتا کہ حضرت محمد صل اللّہ علی وسلم پر درود بھیجنے  سے ہر دعا قبول ہوتی ہےاور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے یہ جملہ اس کے دل کا یقین تھا۔ اس یہودی نے ایک سازش تیار کی کہ اس مسلمان کو ذلیل و رسوا کیا جاۓ  اور  درودشریف کی تاثیر پر سے اس کے یقین کو کمزور کیاجاۓ۔ اور اس سے یہ جملہ کہنے کی عادت چھڑاٸ جاۓ۔ یہودی نے ایک سنار سے سونے کی ایک انگوٹھی بنواٸ اور اسے تاکید کی کہ ایسی انگوٹھی بناۓ کہ جیسی انگوٹھی پہلے کسی کے لیے نہ بناٸ ہو۔ سنار نے اسے انگوٹھی بنادی۔ وہ یہودی انگوٹھی لے کر مسلمان کے پاس آیا۔حال احوال کے بعد مسلم...

Valentine's Day

Image
ویلنٹاٸن ڈے منانا جاٸز ہے یانہیں یہ کہنا میرا کام نہیں لیکن جو دن صرف بے حیاٸ پھیلاتا ہو, گناہ کوعام کرتا ہو۔  کیا وہ جاٸز ہو سکتا ہے؟ ویلنٹاٸن ڈے منانا ہے؟  میرا ایک سوال ہے اپنی بہن اور بیٹی کو منانے دو گے؟؟ !!!زرا نہیں پورا سوچیۓ

Guzara

Image
گزارا۔ میرا گزارا ممکن نہیں اب تمہارے ساتھ۔ کیوں؟  کیوں کہ میری خواہشات پوری کرنے کی  تمہاری حیثیت نہیں۔ اس کا مطلب کیا؟ علیحدگی؟ ہاں بالکل میری خواہشات ہیں کچھ ترجیحات ہیں, میرے بھی تو کچھ ارمان ہیں کب تک تمہارے ساتھ  یوں ترس ترس کے زندگی گزاروں گی؟ گزارا مشکل ہے گزارا؟  وہ ہو تو رہا ہے, اتنا توکما لیتا ہوں کے اچھا گزر بسر ہو اتنے سالوں سے ہو بھی تو رہا ہے ۔ مگر میری خواہشات۔۔۔۔۔!!!؟؟؟ خواہشات کے آگے کیا اگر اورکیا مگر۔ مسلمان ہونے کی حیثیت  سے بچپن سے ہمیں اللّہ کا شکر کرنا سکھایا جاتا ہے  ۔ کم کھاٶ یا ذیادہ کھاٶ بیٹا اللّہ کا شکرادا کرو۔ دینِ اسلام ہمیں سکھاتا ہےکہ ہمیں اپنے سے نیچےوالے کو  دیکھنا ہے کیوں؟  تاکہ ہم اِس سے بھی اللّہ کا شکر ادا کریں کہ ہم سے زیادہ مشکل زندگی کوٸی جی رہا ہے۔  بچپن سے ایک لفظ سکھایا جاتا ہے شکریہ بولو یا شکریہ کرو۔ کیوں؟ کیوں کہ تاکہ یہ زندگی گزارنا آسان رہے انسان کے لیے۔ لیکن انسان جیسے جیسےبڑا ہوتا جاتا ہے اس کے شکوے بڑھتے جاتے ہیں جب ہماری ذندگی سے شکر نکل جاتا ہے ...

TV Ads

Image
  ہے Must  تو Trust مگر تھوڑا    کے چکر سے ہی  عوام پوری طرح باہر  نہیں نکل پاٸ تھی کہ  چاۓ والا بسکوووووٹ کا حملہ ہوگیا, ابھی اسی سے جان نہ چھوٹی کہ  میرے دیس کا بسکٹ gala  نے ہمارے دماغوں پر ہتھوڑے برسانا شروع کردیے سمجھ نہیں آتا کے کیوں   اتنے عجیب و غریب ہوتے  ہیں یہ اشتہارات؟؟     کون سا بھونڈا راگ الاپ رہے ہوتےہیں کہ جن کے چلنے سے کانوں میں روٸ ٹھونسنے کا دل کرنے لگتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح جلد از جلد یہ ختم ہوں۔ سمجھ نہیں آتا کہ کس معیار کے تحت یہ اشتہارات بناۓ جاتے ہیں نہ تو بسوں میں لٹک لٹک کے ناچتے ہوۓ چاۓ  پینا ہمارے کلچر کاحصّہ ہے , نہ یوں بیچ  سڑک کے اور راہ چلتے کسی کی چاۓ میں اپنے بسکٹ کو سوٸمنگ کروانا    😒  Gala اب    😐😐 کو لے لیجیے پورے دیس کا بسکٹ بنا دیا  ۔ ایک تو یہ zong 4G   کا اشتہار سمجھ نہیں آتا کالے رنگ کا پراندہ سجنا لے آندا  سے زونگ کے چار جی کا کیا کنیکشن ہے 🤔🤔 اللّہ جانے کون سے گاٶں میں یوں منہ ا...

Kids early Education

Image
دوڑِ لا حاصل ہیں ؟ ؟کیا ؟؟ 🙉اوہ ماٸ گاڈ 😱 آٹھ سال کا اور  ٹو کلاس میں ؟😏😏 چہ چہ چہ میرا بچہ تو جب اتنے سال کا تھا تو  کلاس فور میں تھا۔۔ اپنا آپ عجیب گناہ گار ٹاٸپ فیل ہورہا تھا کہ ہیں یہ بھی کوٸ ایشو ہے 🤔 🤔 کل ایک سہیلی  کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا ۔ وہ ہی خواتین کی روایتی فکروں والی گفتگو سے آغاز ہوا کہ تمہارا بچہ کون سی کلاس میں ہے کون سےاسکول میں اور کتنے سال کا ہے۔ ہمارے ہاں بھی جینے کے معیار نرالے ہیں اسکول مافیانے اپنی جیبیں بھرنے کے لیۓ ایک سسٹم بنایا ہے اور سب اندھا دھند اسی کےپیچھے بھاگے جا رہے ہیں بھاگے جارہےہیں۔ اچھابھٸ کیا یہ ہی جینے کا معیار رہ گیا ہے  ہمارے ہاں ؟ کہ ایک مخصوص عمر میں اسکول جانا ہے نہ داخل کروایا تو عدالت تو پھانسی کی سزا دے نہ دے یہ ہمارا معاشرہ ضرور سولی ٹانگ دے گا اس گناہ کی پاداش میں۔ نہیں میرا ایک سوال ہے آپ بتاٸیں کہ کالج میں ایڈمیشن کے وقت کس نے آپ سے پوچھا تھا کہ کس عمر میں اسکول داخل ہوۓ؟ یاں کس عمر میں میٹرک کیا تھا؟ آگے تعلیمی میدان کے دور کے کس مرحلے میں اس کی بابت پوچھا جاتا ہے؟ یونیورسٹی کے ایڈمیشن کے ...

Kartarpur Corridor

Image
تقسیم کے وقت دونوں جانب لوگوں کے مابین پیش آنے والے ناخوش گوار واقعات  کو بنیاد بنا کر  دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے سے ان دیکھا بغض رکھتی ہے جس وجہ سے کرتار پور راہداری کھولنے  پر  دونوں جانب سے کافی تنقید دکھائی دے رہی ہے۔  کیوں کہ پڑوسیوں سے   تعلقات اتنے اچھے نہیں ہیں لہذا  انھیں کوئی سہولت نہ دی جائے اور اس سے پاکستان کو خطرہ ہے  ,پاکستان  کو خطرہ کرتار پور راہداری کھولنے  پر نہیں بلکہ  اس تنگ نظری  سے  ضرور ہوگا ۔   ظلم کے خلاف کھڑا ہونا مسلمان کی شان ہوا کرتا تھا اور ہماری اس تنگ نظری نے ہمیں کہاں لا کھڑا کیا وہ مسلمان جو ایک مظلوم لڑکی کے خط پر مدد کے لئے نکل جایا کرتے تھے ۔ لیکن 1947 کے بعد سے دونوں ممالک  کے بیچ تناؤ سنگین صورت اختیار کرگیا۔ پاکستان تنگ نظری کی بنیاد  پر بنایا جاتا تو کبھی نہ بن پاتا  , بلکہ مسلمانوں کو درپیش آنے والے مختلف مسائل کو دیکھتے ہوئے  قائد  نے الگ ملک کے لئے جدو جہد کی جہاں کوئی اعلی اور ادنی نہ ہوگا کوئی کم ذات  یا اونچی ذات کا نہیں ہوگا ک...