Kartarpur Corridor
![]() |
| kartapur corridor |
کرتارپور راہداری اور ہماری تنگ نظری
تقسیم کے وقت دونوں جانب پیش آنے والے انتہائی افسوسناک اور ناخوشگوار واقعات کو بنیاد بنا کر آج تک دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے سے ایک ان دیکھا بغض اپنے دلوں میں لیے بیٹھی ہے۔ نسل در نسل یہ زخم منتقل ہوتے رہے، اور یہی وجہ ہے کہ جب کرتارپور راہداری جیسا تاریخی اور انسانی ہمدردی پر مبنی قدم اٹھایا گیا تو دونوں جانب سے اس پر کافی تنقید بھی دیکھنے میں آئی۔
ایک طبقہ یہ کہتا نظر آیا کہ چونکہ پڑوسی ملک سے ہمارے تعلقات اتنے اچھے نہیں ہیں، لہٰذا انہیں کسی قسم کی کوئی سہولت نہیں دینی چاہیے، اور اس راہداری سے پاکستان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
مگر ٹھنڈے دل سے سوچیے تو حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان کو خطرہ کرتارپور راہداری کھولنے سے نہیں، بلکہ اس تنگ نظری سے ضرور ہوگا جو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ رہی ہے۔ خطرہ نفرت سے ہے، محبت سے نہیں۔
ظلم کے خلاف کھڑا ہونا تو مسلمان کی شان ہوا کرتا تھا۔ ہم وہ قوم ہیں جس کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایک مظلوم لڑکی کے ایک خط پر محمد بن قاسم ہزاروں میل کا سفر طے کر کے مدد کے لیے نکل پڑا تھا۔ ہماری پہچان تو عدل، رحم دلی اور مظلوم کا ساتھ دینا تھی۔ لیکن افسوس کہ 1947 کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تناؤ نے اتنی سنگین صورت اختیار کر لی کہ ہم انسانیت کے اس بڑے اصول کو ہی بھولتے جا رہے ہیں۔
اگر پاکستان تنگ نظری کی بنیاد پر بنایا جاتا تو یہ کبھی نہ بن پاتا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کسی فرقے یا نفرت کی بنیاد پر نہیں بنایا تھا۔ انہوں نے تو ان گنت مسلمانوں کو درپیش معاشی، معاشرتی اور مذہبی مسائل کو دیکھتے ہوئے ایک ایسے الگ وطن کے لیے جدوجہد کی تھی جہاں کوئی اعلیٰ و ادنیٰ نہ ہوگا، کوئی کم ذات یا اونچی ذات کا تصور نہیں ہوگا، کوئی کالا یا گورا نہیں ہوگا، سب کو برابری کے حقوق حاصل ہوں گے۔
قائد کی 11 اگست 1947 کی تقریر آج بھی ہمارے آئین کی روح ہے، جس میں انہوں نے واضح طور پر فرمایا تھا کہ اس ریاست میں ہر شہری کو اپنے مندر، مسجد، چرچ اور گردوارے میں جانے کی مکمل آزادی ہوگی۔
اب سوچیے، اگر کسی برادری کا سب سے مقدس مذہبی مقام ہماری حدود میں موجود ہے تو صرف اس مخصوص احاطے کو ان کے لیے کھول دینے سے بھلا کون سی قیامت برپا ہو جائے گی؟ یہ تو ہمارے ملک کے وقار میں اضافہ ہے، کمی نہیں۔ یہ اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں اہلِ کتاب کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:
*"قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ"*
*ترجمہ: "آؤ ان باتوں کی طرف جو ہم میں اور تم میں یکساں ہیں"*
ہماری تنگ نظری ہمیں اس الہی حکمت کی طرف سوچنے ہی نہیں دیتی۔ ہم ایک مسلمان ہو کر اتنے فرقوں، گروہوں اور مسلکوں میں تقسیم ہو چکے ہیں کہ ان یکساں باتوں کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا جو ہمیں جوڑ سکتی ہیں۔ ہم نے محبت کی بجائے نفرت کو آسان راستہ سمجھ لیا ہے۔
خدارا، دل اور نظر اتنی تنگ نہ کیجیے۔
یہ حقیقت ہمیں نہیں بھولنی چاہیے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے علاوہ بھی دیگر مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔ ہندو، مسیحی، سکھ، سب اس دھرتی کے بیٹے ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق ہمارے ذمے ہیں اور ہمارے کامل دین اسلام میں اس حوالے سے بہت وسعت موجود ہے۔ نبی کریم ﷺ نے غیر مسلموں کے حقوق کا جس طرح خیال رکھا، اس کی مثال دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔
اگر کسی کی مذہبی عبادت گاہ یا عقیدت کا مرکز ہماری حدود میں ہے اور ہم اسے صرف زیارت کی اجازت دے رہے ہیں، تو یہ چھوٹی ذہنیت نہیں بلکہ بڑی ذہنیت ہے۔ یہ دنیا کو بتاتا ہے کہ اسلام تنگ نظر مذہب نہیں بلکہ سلامتی اور رواداری کا دین ہے۔
آج انڈیا میں 3 کروڑ سے زائد سکھ آبادی موجود ہے۔ جب وہ کرتارپور صاحب کی زیارت کے لیے آتے ہیں اور یہاں سے عزت، محبت اور احترام لے کر واپس جاتے ہیں تو وہ پاکستان کے سفیر بن کر جاتے ہیں۔ وہ وہاں جا کر بتاتے ہیں کہ پاکستانی قوم مہمان نواز اور پرامن قوم ہے۔ یہی وہ نرم طاقت
(Soft Power)
ہے جو بڑی بڑی جنگوں سے بھی نہیں حاصل کی جا سکتی۔ یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط ناچاقی اور کشیدگی کو دور کرنے میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اس راہداری سے مقامی معیشت، سیاحت اور پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی بے پناہ فائدہ پہنچا ہے۔ دنیا بھر میں اس اقدام کو سراہا گیا۔
اس لیے نفرت کی عینک اتار کر، ماضی کے زخموں کو کریدنے کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھیے۔
اس بارے میں ذرا نہیں، پورا سوچیے۔

Comments
Post a Comment