قائدِ اعظم کی دور اندیشی ایک آزاد وطن کا تحفہ
تقسیم سے پہلے ہندوستان کے تمام مسلمان ہندوستان کو ہی اپنا دیس مانتے تھے دو قومی نظریہ ابھی جنم نہیں لیاتھا, جب قاٸدِ آعظم نے کانگرینس میں شمولیت اختیار کی اور اُس کے چند ہی سال بعد کےعرصےمیں قائد کو باخوبی اندازہ ہویا تھا کہ مسلمانوں کا یہاں ایک ساتھ گزارا ممکن نہیں۔ دونوں کی طرزِ زندگی میں رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ انگریزوں کے آنے سےپہلے اقتدار مسلمان کے پاس تھا تب وہاں اُن کی پوزیشن مختلف تھی۔ لیکن جب یہ اقتدار انگریزوں سے ہندوٶں کو نتقل ہوگا کیوں کہ وہ وہاں اکثریت تھے , تب صورتِ حال مختلف ہوگی۔ جناح صاحب نے مسلمانوں کی بھلاٸی دیکھتے ہوۓ دوقومی نظریے کی بھرپور حمایت کی اور مسلمانوں میں یہ شعور اجاگر کیا کہ الگ وطن میں ہی ہماری بقا ہے ۔ ان تمام معملات میں قاٸد اور ان کے ساتھیوں کو پیش آنے والےمساٸل اورمصاٸب سے ہم سب آگاہ ہیں یہاں کہنے کامقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیۓ جو الگ وطن کے حصول کی خاطر جناح صاحب کی انتھک محنت اور ناقابلِ بیان کاوشیں تھیں, بہ حکمِ الہی آپ نےہمیں وہ چھت دی ج...