Posts

بجلی کا بل کم کرنے کے 12 آسان طریقے

Image
آج کل ہر گھر کا مسئلہ ایک ہی ہے، گرمی زیادہ اور بجلی کا بل زیادہ۔ مہنگائی کے اس دور میں جہاں عام شہری کاجینا محال ہے۔ مہنگائی کے ہاتھوں ستائی عوام آخر کیا کرے؟   جتنا ممکن احتیاط ہمارے ہاتھ میں ہے کم از  کم وہ تو اختیار کر ہی سکتے ہیں۔  اگر آپ بھی ہر مہینے بل دیکھ کر پریشان ہو جاتی ہیں تو یہ ١٢ چھوٹے چھوٹے طریقے آپ کا بل آدھا کر سکتے ہیں۔ ١۔ اے سی کا استعمال ہوشیاری سے کریں ہمیشہ اے سی    26  پر چلائیں۔ ہر 1 ڈگری کم کرنے سے بل 6% زیادہ آتا ہے۔ ساتھ پنکھا چلائیں تو کمرہ جلدی ٹھنڈا ہوگا۔ ٢۔  پرانے بلب نکال دیں پرانے  بلب بہت بجلی کھاتے ہیں۔    LED  بلب لگائیں، یہ 80% کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ ٣۔  استری اور واشنگ مشین کا ٹائم بدلیں کوشش کریں دوپہر 11 سے شام 4 بجے تک استری اور موٹر  نہ چلائیں۔ اس ٹائم میں بجلی سب سے مہنگی ہوتی ہے.  ٤۔ فریج کو دیوار سے دور رکھیں. فریج کو دیوار سے کم از کم 1 فٹ دور رکھیں اور اس کا دروازہ بار بار نہ کھولیں۔ اس سے فریج پر بوجھ کم پڑتا ہے۔ ٥۔  سوئچ آف کرنا نہ بھولیں. ٹی وی، چارجر، مائیکرو...

عورت کا پردہ یاں مرد کی تربیت اصل مسئلہ کیا ہے؟

Image
  عورتوں کے معاملے میں مردوں نے اللہ سے ڈرنا تھا عورت کا پردہ یاں مرد کی تربیت اصل مسئلہ کیا ہے؟ کہتے ہیں کہ عورت گھر میں رہے گی تو فتنے نہیں پھیلیں گے۔ معاشرے کے ہر بگاڑ کو عورت سے جوڑا جاتا ہے اس کے لباس سے اس کے انداز سے۔ اس کی چال سے۔ لیکن  ہمارے معاشرے کے  مسائل کی اصل وجہ کیا  عورت ہی ہے؟ یاں اصل وجہ سے جی چرانے کے لیے اوپر بیان وجوہات ہم نے خود سے گڑھ لی ہیں؟  آئے دن ہراسانی کے واقعات ہماری نظروں سےگزرتے ہیں یہ کون کرتا ہے؟ کیا سڑک پر  چلتے مردوں کو عورتیں تنگ کرتی ہیں؟ آتے جاتے اشارے کرتی ہیں ؟ عزت پر حملہ کون کرتا ہے مرد یاں عورت ؟ تیزاب گردی کون کرتا ہے؟ کیا آپ نے اپنی زندگی میں کبھی سنا ہے کہ کسی عورت نے کسی مرد پر تیزاب پھینکا ہو؟ یاں رہ چلتے آواز کسی ہو یاں ہاتھ لگایا ہو؟ اسکول کالج یونیورسٹوں میں بچیوں کو بلیک میل کرنا ۔ ان سے ناجائز مطالبات کرنا پھر انکار کیے جانے کی صورت امتحان میں فیل کردینے کی دھمکی دینا۔  نبی پاک ﷺ  نے  حجتہ الوداع کے موقع پر نم آنکھوں سے  فرمایا تھا کہ  "عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو"_ کیا یہ...

2025 کیسا رہا؟

Image
  کیا سنائیں کہ یہ سال کیسا گزرا ۔ ملک کے حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے سوال یہ نہیں  کہ یہ سال کیسا گزرا بلکہ سوال تو یہ بنتا ہے کہ جناب یہ کیسے گزرا؟ اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں پاکستان کی پینتالیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہی۔ حکومت کی نظر سے دیکھیں تو  یہ سال لکھنے کی حد تک ترقی کی راہ پر گامزن رہا اور حقیقت کی بات کریں تو غربت بھوک افلاس اخراجات مہنگائی  اشیاء خردونوش کے نرخوں سے عوام پریشان  اور عاجز دکھائی دی۔ وطنِ عزیز کے معاملات پر نظر ڈالیں تو اس سال بڑی تعداد میں  تقریباََ 687,000 افراد پاکستان چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہوئے۔ Bureau of Emigration and Overseas Employment کی آفیشل رپورٹ کے مطابق اس سال کے پہلے دس ماہ میں صرف  سعودی عرب جانے والوں کی تعداد 430,000 ہے۔ معاشی مسائل, ملک میں امن و امان کی صورتِ حال اور بیرونِ ملک بہتر روزگار کے مواقع کی تلاش میں خلیجی ممالک ,برطانیہ اور کینیڈا جانے والوں کی تعداد زیادہ رہی۔ ان افراد میں ڈاکٹر انجینئر اور ملک کا ہنر مند قابلِ ذکر   طبقہ شامل ہے۔ سال 2025 میں پڑوسی م...

ظالم کا انجام - فرعون سے ہٹلر تک عبرت کی کہانیاں

Image
  فرعون کا دریائے نیل میں غرق ہونے کا کوئی ارادہ تو  نہیں تھا۔ مگر اُسے ڈوبنا پڑا۔ اُس نے اپنے غلاموں سے اپنے ارد گرد قلعے کی دیواریں اونچی  اور نہایت مضبوط بنوائیں تاکہ اُسے کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔ لیکن غرق ہونے کے لیے خود چل کر دریا تک گیا تھا۔ خُدائی کا دعویدار بھی رہا لیکن سچے خُدا نے رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان  بنادیا۔ شداد اگلے کروڑوں سال اپنی جنت میں مزے اُڑانا چاہتا تھا۔   مگر اُس کے دروازے پر پہنچتے ہی مر گیا۔   نمرود کی پلاننگ بھی کافی لمبی تھیں۔ اُس کی صدیوں حکومت کرنے کی خواہش کو ایک مچھر نے ختم کر دیا۔ چنگیز خان  بھی اپنے زمانے کی سب سے بڑی سلطنت کا مالک تھا ۔ طاقت اور اختیار کے نشے میں ایسا مست کہ کہا جاتا ہے کہ چالیس ملین لوگوں کا  قاتل تھا  اور اِس قتل و غارت گری کے نتیجے میں اُس وقت دنیا کی آبادی کا  گیارہ فیصد حصہ  ختم ہوگیا تھا۔ چنگیز خان ظلم و بربریت کی نشانی کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔  گھوڑے پر بیٹھ کر علاقوں کے علاقے فتح کرتا اور لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتا اُن کا قتلِ  عام کرتا چنگیز...

سچ کا سفر

Image
سقراط کو زہر کا پیالہ پیتا دیکھ کر ایتھنز کے حکمرانوں کو سُکھ کا سانس آیا کہ اُن کی نوجوان نسل کو گمراہ کرنے والے فتنے کا اختتام ہوا۔ اُس وقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یونانی اشرافیہ جیت گئ سقراط کی دانش وری  ہار گئ۔ وقت گزر گیا۔ اسکاٹ لینڈ کی جنگ، آزادی لڑنے والے  ولیم والس کو  انگلینڈ کے  بادشاہ ایڈورڈ اوّل نے گرفتار کیا تو اُس پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ اُسے بے لباس کرکے گھوڑں کے سموں کے ساتھ باندھ کر  لندن کی گلیوں میں گھسیٹا گیا اور پھر شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد  پھانسی دے کر لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔ اُس وقت کا بادشاہ جیت گیا ولیم ہار گیا وقت گزر گیا۔ گلیلیو نے ثابت کیا کہ زمین اور دیگر سیارے سورج کے گِرد گھومتے ہیں تو یہ کیتھولک عقائد کی خلاف ورزی تھی۔  چرچ  نے گلیلیو کو  غیر معینہ قید کی سزا سنائی۔ یہ سزا ١٦٣٣ میں سنائی گئ ۔گلیلیو کو گھر میں قید رکھا اور وہیں ١٦٤٢ میں اُس کی وفات ہوئی۔ اُس وقت کے پادری جیت گئے سائنس ہار گئ وقت گزر گیا۔ روم کے جیو ردانو برونو پر بھی چرچ کے عقائد سے انحراف کرنے کا مقدمہ بنایا گیا۔ برونو نے ...

عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو - خطبہ حجۃ الوداع کا بھولا ہوا پیغام

Image
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو میں بیزار ہوں ہر اُس اقدار سے ہر اس تہذیب سے ہر اس روایت,  رسم,  ریت ,  رواج سےجو کسی ایک کو دوسرے پر اتنا اختیار دے  کہ وہ سامنے والے کی زندگی اور موت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے لے۔ مجھے شکوہ ہے ہر اُس  مرد سے جو  عورت کو بس سزا دینا  اپنا اختیار اور حق سجھتا ہے۔  بلکہ اُس کا فرض تو عورت کی حفاظت کرنا ہے۔ عورت نے  مرد کے مزاج کے خلاف کچھ کیا ہے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے اُس سے تو اسے سزا دی جائے۔  پھر وہ سزا کسی بھی قسم کی کیوں نہ ہو۔ نہ نہ۔ ایسی کوئی اجازت کسی کو کسی نے نہیں دی نہ دین نے نہ  شریعت نے نہ ریاست نے۔ انسان کی جان پر صرف  و صرف اگر حق ہے تو اللہ باری تعالی کا ہے  اول تا آخر۔ اسلام نے جو رشتے بنائے وہ ایک دوسرے سے حقوق کی بنیاد پر جُڑتے ہیں نہ کہ دھونس اور جبر کی بنیاد پر۔  میں تمھارا مالک ہوں لہذا میں تمھاری زندگی کا فیصلہ لے سکتا ہوں۔   ❌❌❌❌❌❌❌❌❌ نہیں ۔۔۔  ظلم کے لیے کوئی بھی وجہ قابلِ قبول نہیں اسلام  صرف ہمیں رشتوں کا احترام سکھاتا ہے اور ان کے حقوق ادا...

اکیسویں صدی کے معاشرتی مسائل

Image
!!یہ اکیسوی صدی ہے دوست  زرا سنبھل کے۔۔ دنیا کی ابتداء سے لے کر ابھی تک کے بد ترین وقت میں خوش آمدید۔۔ خوش آمدید اُس اکیسیوی صدی میں کہ جس کا ذکر ہمیشہ ڈرانے والے انداز میں ہی کیا جاتا ہے۔ اب عزت دار  با عقیدہ اور غیرت مند افراد آپ کو چُھپے ہوئے ملیں گے  جو زیادہ تر گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں گے,  لوگوں کے شر سے خود کو بچاتے ہوئے۔ یوں سمجھ لیں کہ جیسے  وہ دہکتا انگارہ ہتھیلی پر رکھے بیٹھے ہوں۔  جبکہ اُن کے برعکس  اوچھے لوگ معاشرے میں مقبول اور پسندیدہ بنیں  دکھائی دیں گے۔ پچپن ساٹھ سال کا آدمی جوانی کے نشے میں مست ملے گا جب کہ  پچیس سال کا نوجوان آپ کو زندگی سے تنگ دُنیا سے بیزار موت کا منتظر ملے گا۔ وہ جن کے کھیلنے کودنے کے دن بھی ختم نہیں  ہوئے وہ آپ کو  ڈپریشن اور اسٹریس پر سرِ عام  تبصرہ کرتے نظر آئیں گے۔ ننھی مُنّی بچیاں  محبوب کے دھوکہ دینے اور چھوڑ جانے پر  آپ کو غم زدہ ملیں گی۔ اصول پسند حق بات کرنے والے اور غیرت مند افراد کو دقیانوسی اور تنگ نظر سمجھا جارہا ہے۔  جبکہ بے راہ روی, فحاشی و عریانیت کو ثقافت...