2025 کیسا رہا؟
کیا سنائیں کہ یہ سال کیسا گزرا ۔ ملک کے حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے سوال یہ نہیں کہ یہ سال کیسا گزرا بلکہ سوال تو یہ بنتا ہے کہ جناب یہ کیسے گزرا؟
اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں پاکستان کی پینتالیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہی۔
حکومت کی نظر سے دیکھیں تو یہ سال لکھنے کی حد تک ترقی کی راہ پر گامزن رہا اور حقیقت کی بات کریں تو غربت بھوک افلاس اخراجات مہنگائی اشیاء خردونوش کے نرخوں سے عوام پریشان اور عاجز دکھائی دی۔
وطنِ عزیز کے معاملات پر نظر ڈالیں تو
اس سال بڑی تعداد میں تقریباََ
687,000
افراد پاکستان چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہوئے۔
Bureau of Emigration and Overseas Employment
کی آفیشل رپورٹ کے مطابق
اس سال کے پہلے دس ماہ میں صرف سعودی عرب جانے والوں کی تعداد
430,000
ہے۔
معاشی مسائل, ملک میں امن و امان کی صورتِ حال اور بیرونِ ملک بہتر روزگار کے مواقع کی تلاش میں خلیجی ممالک ,برطانیہ اور کینیڈا جانے والوں کی تعداد زیادہ رہی۔ ان افراد میں ڈاکٹر انجینئر اور ملک کا ہنر مند قابلِ ذکر
طبقہ شامل ہے۔
سال 2025 میں پڑوسی ممالک بھارت اور افغانستان کے ساتھ حالات کشیدہ رہے اور یہ
کشیدگی سنگین صورت اختیار کرگئ۔
اپنے ملک میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے پہلگام کو جواز بنا کر سات مئ کو بھارت نے اپنی وہ ہی بزدلانہ روش برقرار رکھتے ہوئے رات کے اندھیرے میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے کچھ علاقوں پر حملہ کیا جن میں مساجد بھی شامل تھیں۔ نتیجے میں بے گناہ افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
بھارت کو اِس حرکت کا افواجِ پاکستان نے بہترین جواب دیا۔ دس مئ کی صبح بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا گیا اور بھارت کو بھرپور طریقے سے منہ توڑ جواب دیا جو کہ پڑوسی چند گھنٹے سہہ نا پائے اور جنگ بندی کی جانب دوڑنے پر مجبور ہوئے۔
اکیس مئی کی صبح بلوچستان کے علاقے خضدار میں اسکول بس پر دہشتگردوں نے حملہ کیا جس میں پانچ بچے شہید اور 35 سے زائد زخمی ہوئے۔
ا س را ئیل ہمیشہ کی طرح اپنی شیطانی فطرت سے باز نہ آیا اور
اس سال جون کے مہینے میں ایران پر جارحیت شروع کی۔
مقصد ایران کاجوہری پروگرام تباہ کرنا تھا جس میں الحمد لله اس رائیل ناکام رہا۔ایران نے اس جنگ کے نتیجے میں اپنے ہونے والے تمام تر جانی و مالی نقصانات کیے باوجود ہمت نہ ہاری نہ ہتھیار ڈالے ۔ بھرپور جوابی کاروائی کی گئ اور ایران نے دس سے بارہ دنوں میں ہی اسرائیل کو جنگ بندی کی طرف بھاگنے پر مجبور کردیا۔
طویل عرصے سے ا س رائیل بے گناہ مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے میں اس قدر مصروف رہا اور اپنی حفاظتی تدابیر پر نازاں اتنا کہ یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ وہ اور اُن کے علاقے اس سب سے ہمیشہ محفوظ رہیں گے لیکن ایسا ہرگز نہ ہوا۔ بلکہ ایران نے بھرپور جرات و شجاعت کا ثبوت دیتے ہوئے تمام امتِ مسلمہ کے کلیجے اس قدر ٹھنڈے کیے کہ ساری دنیا اس رائیل کو ایران کے ہاتھوں مار پڑتا دیکھ کر خوشی سے سرشار تھی بلخصوص وہ مسلم ممالک جو کہ عرصہ دراز سے اس را ئیلی شیطانیت جھیل رہے تھے ۔ ایران نے
اس را ئیل کے چھکے چُھڑا دیے ۔
اس سال اکتوبر کے مہینے میں ایک اور واقعہ پیش آیا
پاک افغان جنگ۔
یہاں حریف مسلمان بھی تھا اور سرحد سے جُڑا پڑوسی بھی۔
اکتوبر کے مہینے میں کابل میں ہونے والے ایک حملے کا الزام افغانستان نے پاکستان پر لگایا ۔
بھارت کے دورے پر گئے افغان طالبان کے وزیر خارجہ نے وہاں کی پریس کانفرنس میں پاکستان کے لیے نہایت ہتک آمیز الفاظ کہے اور اپنے ملک کے سرحدی علاقوں پر ہونے والے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔ اور کہا کہ وہ روس اور مریکہ سے سبق سیکھے اور افغانستان کے ساتھ ایسے کھیل نہ کرے۔
یہ معاملہ جملوں سے آگے بڑھتا ہوا بارڈر پر کشیدگی کی شکل اختیار کر گیا اور جوابی حملے دونوں جانب سے جاری رہے۔
ترکیہ اور قطر کی مشترکہ کاوش سے دونوں فریقین کے وزراء کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ قطر کے دارلحکومت دوحہ میں طے پایا ۔ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت ذمہ دار فریق پر جرمانہ عائد ہوگا۔ معاہدے میں پاکستان نے اپنے تحفظات کی ضمانت مانگی کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔ اس جنگ کے سلسلے میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ اس بڑھتی کشیدگی کے سبب بارڈر بند ہونے کی صورت دونوں جانب
سرحدی تجارت بھی بے انتہا متاثر ہوئی۔
ایک طرف جنگی معاملات تو دوسری جانب اس سال سیلاب نے ملک کے کئ علاقوں میں شدید تباہی مچائی بالخصوص پنجاب کے 8300 دیہات زیرِ آب آئے۔
پنجاب میں زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچا۔ لاکھوں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے۔
خیبر پختون خوا میں طوفانی بارشوں بادل پھٹنے کے سبب شدید جانی نقصان ہوا ۔ زیادہ متاثر کن علاقوں میں بُنیر سوات شانگلہ شامل ہیں۔
پنجاب میں بڑی تباہی کے بعد سیلابی ریلے کا رخ سندھ کی جانب آنا تھا۔ خطرات کا اندازہ تھا۔ سندھ حکومت کی جانب سے احتیاطی تدابیر اپنائی گئ۔ سندھ کے کئ دیہات زیرِ آب آگئے کسانوں کو شدید نقصان ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ۔ مذید خطرے سے بچنے کے لیے لوگوں نے کچے علاقوں سے نقل مکانی کی۔
پاکستان میں زرعی شعبے سے پینتیس فیصد لوگوں کا روزگار جُڑا ہے۔ سیلاب سے زراعت کو شدید نقصان پہنچا۔
ایگریکلچر پنجاب ڈیپارٹمنٹ کے مطابق چاول ,گنا, کپاس کے علاوہ سبزی, مکئی , کھاد, تل فش فارمز بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
سبزیاں دس فیصد
کپاس کا نقصان 1.7 فیصد
چاول کا دس سے پندرہ فیصد
گنے کی فصل پانچ فیصد
گھاس 7.2
مکئی 6.4فیصد
تِل 5.4
اور فش فارمز کو تقریباََ پچاس ہزار ایکڑ تک کا نقصان ہوا۔
سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو پورا کا پورا سال
2025
عمران خان کا سال نظر آیا سیاست ہو یاں صحافت ہو یاں عدلیہ ہو سارے کے سارے اس ایک نام کے ہی گرد گھومتے دکھائی دیے۔ میڈیا چینلز پر نام لینے کی پابندی کے باوجود ایک ہی گردان سنائی دی جاتی تھی
بانی بانی بانی بانی بانی
اڈیالہ اڈیالہ ڈیالہ اڈیالہ
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کی ناحق قید کی وجہ سے جہاں پاکستان کی اکثریت عوام غم و غصے کا شکار ہے وہیں عمران خان سے جیل میں اُن کے اہلِ خانہ سے ملاقاتوں اور بیٹوں سے بات پر عدالتی حکم کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے جیل حُکام نے پابندی لگائے رکھی ہے اور پنجاب پولیس کی جانب سے عمران خان کی بہنوں کو موسمی سختی کے باوجود جیل کے باہر پریشان کیا جارہا ہے۔ کبھی جیل کی طرف آنے والے راستے رکاوٹیں لگا کر بند کردیے جاتے کہ لوگوں کو گاڑیوں سے اتر کر پیدل چل کر جیل تک آنا پڑتا ہے تو کبھی پر امن احتجاج میں بیٹھے شرکاء پر پانی پھینکا جاتا کبھی شیل پھینکے جاتے تو کبھی لاٹھی چارج کیا جاتا, کبھی دھکم پیل کی جاتی غرض کہ ہر طرح کی سفاکیت جاری ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی شے موجود ہی نہیں اور اس سارے نظام کو کسی لاٹھی کی مدد سے ہانکا جا رہا ہے اس سب ناانصافی اور ظلم کا کوئی پرسان حال نہیں۔
اس سال جاتے جاتے جو ایک صدمہ پاکستانیوں کو ملا وہ تھا ہماری قومی ایئر لائن کی نیلامی کا۔ فارم 47 والوں نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں آخر کار بیچ دیا گیا۔
ہمارے جعلی حکومت کی نظر میں یہ اُن کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے کہ اُن کا کہنا ہے کہ ایسے ملک بہت اوپر جائے گا۔
اور اصل حقیقت میں اوپر ملک نہیں باقی کافی کچھ چلا گیا ہے ۔
جیسے کہ
مہنگائی بڑھی
بیروزگاری بڑھی
غربت جی وہ بھی بڑھی۔۔
رئیل اسٹیٹ نیچے گئ
زراعت نیچے گئ۔
کی بربریت جاری رہی۔غذائی قلت تباہ کاریاں اموات دھماکوں سے گونجتی بیت المقدس کی فضاء جہاں سانس لینا محال ہو وہاں اِن حالات میں اہلِ غزہ کسمپرسی کی حالت میں رہ رہے ہیں۔
سال ٢٠٢٥ میں پنجاب بھر میں مختلف روڈ حادثات میں
4791
افراد ہلاک ہوئے۔
لاہور شہر میں 2024 میں مختلف جرائم کے درج مقدمات کی تعداد دو لاکھ 24 ہزار سات سو تھی جبکہ سال 2025 میں اس میں اضافہ ہوا اور تعداد بڑھ کر دو لاکھ
ستر ہزار چار سو ساٹھ ہوگئ۔
پولیس کے مطابق یہ جرائم اغواء برائے تاوان ,چوری ,ڈکیتی ,بھتہ خوری, اجتماعی زیادتی, قتل اور پولیس مقابلوں پر مبنی تھے۔
22 مقدمات بھتہ خوری
40 خواتین سے اجتماعی زیادتی کے
591 زیادتی کے مقدمات
13 اغواء برائے تاوان
280 قتل کے
577 مقدمات اقدامِ قتل پر درج کے گئے۔
اغوا کے 8600 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے۔ جبکہ چوری کے 56 ہزار 138 مقدمات درج کیے گئے۔
مویشی چوری کے 936
سائیکل چوری کے دو سو مقدمات
نقب زنی کے 2823 مقدمے
گاڑی چوری کے 994
اور موٹرسائیکل چوری کے 9578 واقعات کی رپورٹ درج کروائی گئ۔
موبائل اسنیچنگ کے 434 واقعات
گاڑی چھیننے کے 25
موٹر سائیکل چھیننے کے 401
اسی طرح گاڑی چھیننے کے 25 واقعات رپورٹ ہوئے۔
ڈکیتی کی 37 وارداتیں پیش آئیں اور دوران ڈکیتی مزاحمت کے نتیجے میں آٹھ افراد جان سے گئے۔
چھینا چھپٹی کے 3382 اور جیب کاٹنے کے بیس ہزار سے زیادہ واقعات تھانوں میں درج کروائے گئے۔
لاہور میں اس سال مختلف پولیس مقابلوں کی تعداد 79 رہی۔
لاہور پولیس کی کارکردگی پر بات کی جائے تو اِس سال 96 پولیس اہلکار اور افسران کے خلاف مختلف مقدمات رپورٹ ہوئے۔
دس ملزمان پولیس حراست سے فرار ہوئے۔
راولپنڈی میں اس سال 16626 روڈ حادثات ہوئے جن میں 199 افراد جان کی بازی ہارے جبکہ 18434 زخمی ہوئے۔
اس سال 2025 شہرِ قائد میں آٹھ سو پچاس افراد مختلف ٹریفک حادثات کے باعث جاں بحق ہوئے جبکہ بارہ سو سے ذائد زخمی ہوئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ڈمپر تصادم سے 44 افراد , واٹر ٹینکر تصادم سے ساٹھ افراد مزدا کی ٹکر سے بیس افراد اور بس حادثوں سے 33 افراد جان کی بازی ہارے۔ جن میں مرد خواتین اور بچے شامل ہیں۔
ایک اور سال بیت گیا۔ کچھ مشکلات کچھ آسانیوں کے ساتھ یہ سفر جاری و ساری ہے۔
یہی تو اصل امتحان ہے ک آپ تھکے تو نہیں؟
اللہ سے اس دعا کے ساتھ کہ خدا آنے والا نیا سال وطنِ عزیز کے لیے خوشحالی کا سال ہو۔ معصوم بے گناہ فلسطینیوں کے لیے سکون کا باعث ہو۔
امن و امان کی فضا قائم رہے۔
آمین










Comments
Post a Comment