مسلم امہ اتحاد
ویسے ہمارے حکمرانوں کو حالیہ چلنے والی ایران اور اسرائیل جنگ سے سبق سیکھنا چاہیے کہ عرصہ دراز سے ہمارے عرب ممالک جس طرح امریکہ سے یاری نبھاتے آئے ہیں ان پر اپنی دولت خزانے نچھاور کرتے رہے ہیں اور بدلے میں امریکن فوجیوں کو اپنے ملک میں حفاظت کے جھانسے میں اڈوں کی صورت بساتے چلے گئے ۔ یہ تمام عرب ممالک امریکہ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے رہے ۔
ہمارے ہاں وائٹ ہاؤس سے لنچ کی دعوت آجانے پر خوشی سے نہال ہورہے ہیں۔ سیلوٹ کر رہے ہیں۔ اور سب سے شرم ناک بات یہ کہ غ ز ہ کے معصوم بچے بمباری سے ہوا میں تحلیل کردینے والے کو امن کا داعی کہہ کر پکار رہے ہیں۔
گلف کے حالات ہمارے سامنے ویسٹ کی تمام تر حقیقت عیاں کر رہے ہیں اگر ہمارے حاکمِ بالا کچھ ہوش کے ناخن لیں۔
جو ان کے شکنجے میں آئے گا اپنا ہی نقصان اُٹھائے
گا۔
اور آج جب ایران نے اپنے خلاف ہونے والے مسلمان عرب ممالک کے اندر سے کیے جانے والے حملوں پر جوابی کاروائی کی تو تمام عرب ممالک کو ایران کے جوابی حملوں سے نہ امریکہ کے ان کے ملکوں میں موجود اڈّے بچا پائے اور نہ ہی ان کےملک میں موجود امریکن فوجی۔
حقیقتاََ امریکہ صرف و صرف اپنے حقیقی دوست اسرائیل کو پروٹیکٹ کر رہا ہے اور اُس ہی کو پروان چڑھانے کے لیے مسلمان ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف رہا۔
کاش کہ اب بھی ان عرب حکمرانوں کو یہ بات سمجھ آجائے۔ جو کہ کبھی کسی مظلوم اسلامی ملک کی مدد کو آگے نہ بڑھے۔ ان کے پڑوس میں برما لیبیا شام ادرن عراق فلسطین جلتا رہا مگر اِن میں سے کسی کے کان پہ جوں نہ رینگی۔ غ ز ہ کے ںاسی آہ و زاری کر کے انھیں مدد کے لیے ہستھ جوڑ جوڑ کر پکارتے رہے مھر یہ عرب ممالک کان لپیٹے رہے ۔ غ ز ہ کو جانے والے امدادی ٹرک جس طرح مصر کے بارڈر سے لوٹائے جاتے وہ مناظر تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔ بھوک افلاس سے بلکتے غ ز ہ کے مظلوم بچے اس امت کے ایک ایک فرد کا روزِ قیامت گریبان پکڑیں گے۔ اُلٹا ان کے بادشاہ اپنے اماموں سے فتوے دلواتے کہ "فلسطین اور کشمیر کے ایشو پر عام عوام کا بات کرنا حرام ہے"
غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم کے مصداق انھوں نے نوازشات یہود و نصاری پر جاری رکھیں۔
آج ان ممالک کا امن سوالیہ نشان بنا ہے؟
ان کی امپورٹ ایکسپورٹ داؤ پر لگی ہے۔ ان کے شہری پریشان ہیں۔ فارنرز ان عرب ممالک سے بھاگ جانا چاہتے ہیں۔ ان کی اکثریت فلائٹس بند ہیں۔
جب تک جنگ برقرار رہتی ہے ٹورازم کا فالحال یہاں کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا۔
ان عرب ممالک کی تیل کی برآمداد رُک جانے کی وجہ سے ان کی اکانومی شدید بحران کا شکار ہے۔
عرب ممالک کا یہ حال دیکھ کر ان کی عقل پر ماتم نہ کریں تو کیا کریں۔ ہمارے ملک کو کہا جاتا ہے غریب ملک ہے مقروض ملک ہےآئ ایم ایف سے پیسے لیے بنا چل نہیں سکتا۔(اور یہ بھی فیل مینجمنٹ , ہمارے حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں اور عیاشیوں کہ وجہ سے) ان تمام عرب ممالک کی پاکستان جیسی صورتِ حال نہیں تھی۔ پھر بھی انھوں نے حکمتِ عملی بھی وہ اپنائی جس سے انھیں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ نے سختی سے منع کیا تھا۔ وہ حکمتِ عملی تھی یہود و نصاری پر بھروسہ کرنے کی۔ انھوں نے اُن سے دوستی مضبوط رکھی اور اپنے اسلامی برادر ممالک کے ساتھ سوتیلا برتاؤ جاری رکھا۔
آج وقت آنے پر نقصان اُٹھا رہے ہیں۔ اتنا مال اور قدرتی زرائع ہونے کے باوجود بھی اپنے لیے کچھ کر نہیں سکے۔
اپنے دفاع کو خود مضبوط بنانے کے بجائے غیروں کے ہاتھوں میں تھما دیا۔ اب وہ ہی امریکہ اور اسرائیل جن کے یہ پکّے دوست تھے, اِن کے بجائے خود کو بچاتے پھر رہے ہیں۔
کاش اتنے نقصان اُٹھانے کے بعد یہ تمام مسلمان ممالک ہوش کے ناخن لیں اور اپنی سابقہ روش سے پیچھے ہٹ کر اپنی بقا اور سلامتی کے بارے میں سوچیں۔
کیا افسوس کا مقام ہے کہ حرمت والے اس مہینے میں مسلمان ممالک ایک دوسرے کی گردنیں مار رہے ہیں۔ وجہ دیکھیں تو صرف و صرف ایک دوسرے سے نفرت اور یہود و نصاری کی سازش کا آلہ کار بننا۔
ہمارے ہاں بھی عرصہ پہلے سے فرقہ وارانہ نفرت کے بوئے بیج تناور درخت بن چکے ہیں۔ اب وقت یہ آگیا ہے کہ ایک دوسرے سے مسلکی اختلاف کو ایک دوسرے ک خلاف استعمال کرنے سے باز آجانا چاہیے۔
کیا یہ تمام تر صورتِ حال ہمیں یہ معاملات سمجھانے کے لیے کافی نہیں؟ کہ کیوں مسلمانوں کو فرقہ واریت میں الجھائے رکھا تھا؟ بالکل اس لیے تاکہ ان ہی کے ذریعے ایک دوسرے کو آپس میں لڑوایا جاسکے۔ اور ج دشمن کسی ایک پر حملہ کرے تو دوسرا ہرگز ساتھ نہ دے سکے ایک دوسرے کو یوں مرتا دیکھ کر یہ ایک دوسرے پر افسوس بھی نہ کر سکیں۔
اور آج جب ہمارے پڑوس پر اسرائیل نے اپنی روش برقرار رکھتے ہوئے رمضں کے مقدس مہینے میں معصوم بچیوں کے اسکول پر حملہ کیا تو یہاں لوگ کشمکش کا شکار ہیں کہ افسوس کرنا ہے یاں پرائے پھڈے سے دور رہنا ہے؟
اب حالات یہ ہے کہ امت تتر بتر ہے۔
اللہ تعالی نے واضح حکم فرمایا تھا کہ
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اﷲِ جَمِيْعًا
اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو۔
بات یہاں پر مکمل نہ ہوئی بلکہ مذید فرمایا کہ ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جانا۔ بلکہ جُڑے رہنا۔ انتشار کا شکار مت ہونا۔
یہاں تو یہ حال ہے کہ اس وقت مسلمان صرف اغیار کے ہی نہیں تو ایک دوسرے کے ہاتھوں بھی تماشہ بنے ہیں۔
ایسی صورتِ حال میں امت بننا ہے یاں اپنے فرقے پر ڈٹے رہنا ہے؟
اگر حکومتی سطح پر معاملات ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں مگر معاشرتی و سماجی سطح پر تو ہم عقل مندی دکھا سکتے ہیں۔
خدارا آپسی نفرتوں کو بھلا دیں۔ اس وقت کی یہ اہم ضرورت ہے۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ۔ مسلکی بغض نفرت عناد کو بھلا کر ایک صف میں کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ اپنے اپنے فرقے سے نکل کر ایک امت بننا ہی اس وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے جتنا بن پڑے مسلم امت اتحاد میں اپنا حصہ ضرور ڈالے۔
اس بارے میں زرا نہیں پورا سوچیں۔






Comments
Post a Comment