قائدِ اعظم کی دور اندیشی ایک آزاد وطن کا تحفہ
تقسیم سے پہلے ہندوستان کے تمام مسلمان ہندوستان کو ہی اپنا دیس مانتے تھے دو قومی نظریہ ابھی جنم نہیں لیاتھا,
جب قاٸدِ آعظم نے کانگرینس میں شمولیت اختیار کی اور اُس کے چند ہی سال بعد کےعرصےمیں قائد کو باخوبی اندازہ ہویا تھا کہ مسلمانوں کا یہاں ایک ساتھ گزارا ممکن نہیں۔ دونوں کی طرزِ زندگی میں رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔
انگریزوں کے آنے سےپہلے اقتدار مسلمان کے پاس تھا تب وہاں اُن کی پوزیشن مختلف تھی۔ لیکن جب یہ اقتدار انگریزوں سے ہندوٶں کو نتقل ہوگا کیوں کہ وہ وہاں اکثریت تھے , تب صورتِ حال مختلف ہوگی۔ جناح صاحب نے مسلمانوں کی بھلاٸی دیکھتے ہوۓ دوقومی نظریے کی بھرپور حمایت کی اور مسلمانوں میں یہ شعور اجاگر کیا کہ الگ وطن میں ہی ہماری بقا ہے ۔ ان تمام معملات میں قاٸد اور ان کے ساتھیوں کو پیش آنے والےمساٸل اورمصاٸب سے ہم سب آگاہ ہیں یہاں کہنے کامقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیۓ جو الگ وطن کے حصول کی خاطر جناح صاحب کی انتھک محنت اور ناقابلِ بیان کاوشیں تھیں, بہ حکمِ الہی آپ نےہمیں وہ چھت دی جس کے چھن جانے کے خوف سے ہم آزاد ہیں الحمد لله اور یہ وہ چھت ہے جو سب کو سایا دینے کے لیۓ بنی ہے۔
رنگ, نسل, ذات, پات, اقلیت, اکثریت کے فرق سے بالاتر اور مذہب کی
تفریق کیۓ بغیر۔
قائدِ اعظم کی آزادی کے بعد کی تقریر کے الفاظ اس بات کے گواہ ہیں کہ یہاں سب آزاد ہیں اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے۔ کوئی آپ سے آپ کامذہب نہیں پوچھے گا۔ ریاست کا آپ کی نجی زندگی پر کوئی اختیار نہ ہوگا آپ اپنی مرضی سے ذندگی گزارنے اور اپنے لیے مذہب کا تعین کرنے میں اس سرزمین پر مکمل آزاد ہوں گے۔
اس حقیقت سے انکارنہیں کے ہمیں پاکستان میں لاکھ مساٸل درپیش ہیں, لاکھ خامیاں ہیں , بہت سی تبدیلی اور بہتری ابھی درکار ہے, لیکن یہاں آزادانہ طریقے سے رہ رہے ہیں۔
یہ گھنا درخت ہمیں سایا دینے کو ایسے بھی تیار ہے , ہجرت کر کےآئے افراد کو بھی یہ وطن پورا حق دیتا ہے کہوہ جیسے اور جہاں چاہے سکونیت اختیار کرسکتے ہیں۔
ہم سب اس کو اپنا دیس مانتےہیں اور ہمیں یہاں قدم قدم پر کسی پر اِس ملّت سے وفاداری کے ثبوت نہیں دینے پڑتے۔ اس ملک سے عوام کی محبت ہی یہ ثبوت کافی ہے ۔ یہ ملک مسلمانوں کا جتنا ہے اتنا ہی غیر مسلم اقلیتوں کا بھی ہے اس کی مثال دیکھ لیں کہ آج دنیا کے سامنے ہے ہمارے بہن بھائی عیساٸی برادری عرصہ دراز سے اپنا مذہبی تہوار ہر طرح کی آذادی سے اس ملک میں مناتے آ رہے ہیں ۔
آج اس آزاد فضا میں سانس لیتے ہوئے قاٸد آپ کی دور اندیشی کو سلام کہ آپ نے مسلمانوں کی بہبود کا سوچتے ہوئے نہ صرف الگ وطن کا شعور جگایا بلکہ اس پاک سرزمین کے قیام کو ممکن بنایا۔ یہ قوم آپ کا یہ احسان کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔
اللہ اس پاک سر زمین کو ترقی و کامیابی عطا کریں
پاکستان پاٸندہ آباد




Itni achi Urdu zuban ap ne apne mazmoon mai use ki,Jo k ajkal kam hi daikhne mai aati hai.really good effort .aur Jo ap ki research hai mojooda tenazir mai WO bilkul 100% right hai.MashAllah
ReplyDeleteبہت شکریہ
DeleteBht hi zabardast..keep it up
ReplyDeleteبہت شکریہ
DeleteVery well written.. mgr ye ghltian tou in k badon ne kin hoskta hy k kuch log is badhal zindgi se pareshan Hun or niklna chahtay Hun mgr ab kiun k wo apni sari zindgi k sarmaye wahan lga chukay hyn tou unko koi Surat nzr nh ati hogi or agr wo yahan aa b jayen tou Kia Pakistan mei unko shehriat ba asani mil jaegi???
ReplyDeleteیہ میرے لیۓ کہنا آسان ہوگا کہ یہاں آجاٸیں۔
Deleteکہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ صورتِحال سبق حاصل کرنے والی ہے۔ اب اِن بھارتی مسلمانوں کا تو اللّہ ہی مالک ہے۔ خدا ان کے ساتھ خیر کا معاملہ کرے
آمین