ظالم کا انجام - فرعون سے ہٹلر تک عبرت کی کہانیاں


فرعون کا دریائے نیل میں غرق ہونے کا کوئی ارادہ تو نہیں تھا۔

مگر اُسے ڈوبنا پڑا۔

اُس نے اپنے غلاموں سے اپنے ارد گرد قلعے کی دیواریں اونچی اور نہایت مضبوط بنوائیں تاکہ اُسے کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔ محل کے اندر ہزاروں سپاہی اس کی حفاظت پر مامور تھے۔ وہ سمجھتا تھا کہ یہ دیواریں، یہ فوج، یہ خزانے اسے ہمیشہ محفوظ رکھیں گے۔ لیکن غرق ہونے کے لیے وہ خود چل کر دریا تک گیا تھا۔ قدرت کا فیصلہ تھا کہ جس پانی کو وہ اپنی سلطنت کی طاقت سمجھتا تھا وہی پانی اس کی قبر بنے گا۔


وہ خُدائی کا دعویدار بھی رہا لیکن سچے خُدا نے رہتی دنیا تک کے لیے اسے عبرت کا نشان بنا دیا۔ آج اس کی لاش میوزیم میں پڑی ہے اور ہر دیکھنے والا اس سے سبق حاصل کرتا ہے۔



شداد اگلے کروڑوں سال اپنی جنت میں مزے اُڑانا چاہتا تھا۔ اس نے دنیا کی ساری دولت، ہیرے جواہرات لگا کر ایک مصنوعی جنت بنوائی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ موت کو دھوکہ دے دے گا اور اپنی بنائی ہوئی جنت میں ہمیشہ رہے گا۔ مگر اُس کے دروازے پر پہنچتے ہی مر گیا۔ ایک قدم بھی اندر نہ رکھ سکا۔ اس کی ساری محنت، ساری دولت، ساری خواہش دروازے پر ہی دم توڑ گئی۔


نمرود کی پلاننگ بھی کافی لمبی تھیں۔ وہ خود کو سب سے بڑا بادشاہ سمجھتا تھا، اس کی صدیوں حکومت کرنے کی خواہش تھی۔ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے سچے نبی سے بھی ٹکرانے کی کوشش کی۔ اُس کی صدیوں حکومت کرنے کی خواہش کو ایک چھوٹے سے مچھر نے ختم کر دیا۔ اللہ نے اس کے غرور کو ایک حقیر سے کیڑے کے ذریعے توڑ دیا۔ وہی نمرود جو خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا، ایک مچھر کے سامنے بے بس ہو گیا۔


چنگیز خان بھی اپنے زمانے کی سب سے بڑی سلطنت کا مالک تھا۔ طاقت اور اختیار کے نشے میں ایسا مست کہ کہا جاتا ہے کہ چالیس ملین لوگوں کا قاتل تھا اور اِس قتل و غارت گری کے نتیجے میں اُس وقت دنیا کی آبادی کا گیارہ فیصد حصہ ختم ہو گیا تھا۔


چنگیز خان ظلم و بربریت کی نشانی کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ گھوڑے پر بیٹھ کر علاقوں کے علاقے فتح کرتا اور لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتا، اُن کا قتلِ عام کرتا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اسے کوئی گرا نہیں سکتا۔ لیکن چنگیز خان یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ایک دن گھوڑے سے گِر کر مر جائے گا۔ جس گھوڑے پر بیٹھ کر وہ دنیا فتح کرتا تھا، وہی گھوڑا اس کی موت کی وجہ بنا۔


مسٹر ہٹلر کے ارادے بھی خطرناک تھے۔ وہ دنیا پر حکومت کرنا چاہتا تھا، اس نے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ لیکن حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ اُس کی کہانی کا اختتام بنکر میں خودکشی کی صورت ہوا۔ جس ہاتھ سے وہ دوسروں کی موت کے پروانے لکھتا تھا اسی ہاتھ سے اس نے اپنی جان لے لی۔


دُنیا کے ہر ظلم کو ایک مدت تک کا وقت ملتا ہے، اُس سے زیادہ نہیں۔ ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ آتا ہے، ہر ظالم کے لیے ایک دن مقرر ہے۔


جب رب کی پکڑ آتی ہے تو لاکھ تدبیریں بھی کام نہیں آتیں۔ سارا غرور، تکبر، گھمنڈ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔ بڑے بڑے محل، بڑی بڑی فوجیں، خزانے کچھ بھی کام نہیں آتے۔


اِنَّ بَطْشَ رَبَّکَ لَشَدِیدٌ

یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔


ایسے ظالم حکمرانوں کے حوالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ جن کو طاقت اور اختیار کے نشے نے ایسا دیوانہ کیا کہ وہ حد درجہ سفاک اور ظالم بن بیٹھے۔ اُن ظالم شخصیات کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے لیکن نفرت اور لعن طعن کی صورت۔ ہزاروں سال گزر جانے کے بعد بھی کوئی ایسا شخص نہیں جو اُن کے مظالم کو درست فعل قرار دیتا ہو۔ نہ ہی اُن افراد کا ذکر تعریف کی صورت بیان ہوتا ہے۔


عزت دھونس، زور، زبردستی، غنڈہ گردی، بدمعاشی سے حاصل نہیں کی جاتی۔

کاغذ پر لکھے القابات حقیقت نہیں بدلتے۔ طاقت کے زور پر لکھوائے گئے خطاب کاغذ پر ہی رہ جاتے ہیں، دلوں میں نہیں اترتے۔


عزت زبردستی نہیں بنوائی جاتی، کسی نہ کسی اچھے عمل کے ذریعے بنتی ہے جو کہ پھر ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود بھی نئے آجانے والے انسانوں کے دلوں تک تاریخ کے ذریعے منتقل ہوتی رہتی ہے۔


طاقت، عہدے، زندگی یہ سب تو عارضی ہیں۔ عزت مستقل ہے۔ انسان کی پہچان مستقل ہے جو کہ آپ کو آنے والے وقت میں سنہرے حروف میں یاد رکھے گی یا نفرت میں لکھے گی۔ فیصلہ آج کرنا ہے کہ ہم تاریخ میں کس نام سے یاد رکھے جائیں گے۔


خود کو بڑا کہنے اور خود کی بڑائی ظلم کر کے منوانے والے اِس دنیا میں کئی آئے اور چلے بھی گئے۔ آج نہ اُن کی کوئی عزت ہے نہ شہرت، صرف ان کے ظلم کی داستانیں باقی ہیں جو لوگوں کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے سنائی جاتی ہیں۔



Comments

  1. So, it's a great reminder for those who don't bother to think that how giants of History faded before divine justice.
    A thought provoking article.

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

May2025 کی صورتِ حال پر ایک نظر۔ امید کی کرن

عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو - خطبہ حجۃ الوداع کا بھولا ہوا پیغام