اکیسویں صدی کے معاشرتی مسائل
ذرا سنبھل کے دنیا کی ابتداء سے لے کر اب تک کے سب سے عجیب وقت میں خوش آمدید۔ خوش آمدید اس اکیسویں صدی میں کہ جس کا ذکر ہمیشہ ڈرانے والے انداز میں ہی کیا جاتا تھا۔ اب عزت دار، با عقیدہ اور اصول پسند افراد آپ کو چھپے ہوئے ملیں گے، جو زیادہ تر گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، لوگوں کے شر سے خود کو بچاتے ہوئے۔ یوں سمجھ لیں کہ جیسے وہ دہکتا انگارہ ہتھیلی پر رکھے بیٹھے ہوں۔ جبکہ اس کے برعکس اصولوں سے دور لوگ معاشرے میں مقبول دکھائی دیتے ہیں۔ پچپن ساٹھ سال کا آدمی جوانی کے نشے میں مست ملے گا جبکہ پچیس سال کا نوجوان آپ کو زندگی سے تنگ، دنیا سے بیزار ملے گا۔ وہ جن کے کھیلنے کودنے کے دن بھی ختم نہیں ہوئے، وہ ڈپریشن اور اسٹریس پر بات کرتے نظر آئیں گے۔ اصول پسند، حق بات کرنے والے افراد کو دقیانوسی سمجھا جا رہا ہے، جبکہ بے راہ روی کو آزادی کا نام دیا جا رہا ہے۔ غلط تعلقات معاشرے میں عام ہو چکے ہیں، جبکہ نکاح جیسے پاک اور مقدس کام کو انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ اگر کوئی نشہ نہ کرتا ہو تو اسے ماڈرن نہیں سمجھا جاتا۔ جو مرد بیوی کو دھوکہ دے وہ اسمارٹ کہلاتا ہے، جبکہ جو نکاح میں رہ کر اپنی بیوی سے وفاد...