فرعون کا دریائے نیل میں غرق ہونے کا کوئی ارادہ تو نہیں تھا۔
مگر اُسے ڈوبنا پڑا۔
اُس نے اپنے غلاموں سے اپنے ارد گرد قلعے کی دیواریں اونچی اور نہایت مضبوط بنوائیں تاکہ اُسے کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔
لیکن غرق ہونے کے لیے خود چل کر دریا تک گیا تھا۔
خُدائی کا دعویدار بھی رہا لیکن سچے خُدا نے رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان بنادیا۔
شداد اگلے کروڑوں سال اپنی جنت میں مزے اُڑانا چاہتا تھا۔
مگر اُس کے دروازے پر پہنچتے ہی مر گیا۔
نمرود کی پلاننگ بھی کافی لمبی تھیں۔ اُس کی صدیوں حکومت کرنے کی خواہش کو ایک مچھر نے ختم کر دیا۔
چنگیز خان بھی اپنے زمانے کی سب سے بڑی سلطنت کا مالک تھا ۔ طاقت اور اختیار کے نشے میں ایسا مست کہ کہا جاتا ہے کہ چالیس ملین لوگوں کا قاتل تھا اور اِس قتل و غارت گری کے نتیجے میں اُس وقت دنیا کی آبادی کا گیارہ فیصد حصہ ختم ہوگیا تھا۔
چنگیز خان ظلم و بربریت کی نشانی کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
گھوڑے پر بیٹھ کر علاقوں کے علاقے فتح کرتا اور لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتا اُن کا قتلِ عام کرتا چنگیز خان یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ایک دن گھوڑے سے گِر کر مر جائے گا۔
مسٹر ہٹلر کے ارادے بھی خطرناک تھے لیکن حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ اُس کی کہانی کا اختتام خودکشی کی صورت ہوا۔
دُنیا کے ہر ظلم کو ایک مدت تک کا وقت ملتا ہے۔اُس سے زیادہ نہیں۔
جب رب کی پکڑ آتی ہے لاکھ تدبیریں بھی کام نہیں آتیں ۔
سارا غرور تکبرگھمنڈ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔
اِنَّ بَطَشَ رَبَّکَ لَشَدِید
یقیناََ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے
ایسے ظالم حکمرانوں کے حوالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ جن کو طاقت اور اختیار کے نشے نے ایسا دیوانہ کیا کہ وہ حد درجہ سفاک اور ظالم بن بیٹھے۔ اُن ظالم شخصیات کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے لیکن نفرت اور لعن طعن کی صورت۔ ہزاروں سال گزر جانے کے بعد بھی کوئی ایسا شخص نہیں جو اُن کے مظالم کو درست فعل قرار دیتا ہو۔ نہ ہی اُن افراد کا ذکر تعریف کی صورت بیان ہوتا ہے۔
عزت دھونس زور زبردستی غنڈہ گردی بدمعاشی سے حاصل نہیں کی جاتی۔
کاغذ پر لکھے القابات حقیقت نہیں بدلتے۔
عزت زبردستی نہیں بنوائی جاتی ، کسی نہ کسی اچھے عمل کے زریعے بنتی ہے جو کہ پھر ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود بھی نئے آجانے والے انسانوں کے دلوں تک تاریخ کے زریعے منتقل ہوتی رہتی ہے۔
طاقت عہدے زندگی یہ سب تو عارضی ہیں۔ عزت مستقل ہے انسان کی پہچان مستقل ہے جو کہ آپ کو آنے والے وقت میں سنہرے حروف میں یاد رکھے گی یاں نفرت میں لکھے گی۔
خود کو بڑا کہنے اور خود کی بڑائی ظلم کر کے منوانے والے اِس دنیا میں کئ آئے اور چلے بھی گئے۔ آج نہ اُن کی کوئی عزت ہے نہ شہرت۔



زبردست
ReplyDeleteWell said
ReplyDeleteSo, it's a great reminder for those who don't bother to think that how giants of History faded before divine justice.
ReplyDeleteA thought provoking article.