حقیقی آزادی کا سفر




ہم آزاد ہوئے تھے 75 سال پہلے - اور اب حقیقی خودمختاری کا سفر 

(اگست 1947 تا اگست 2022)


ہم سب جانتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست 1947 سے پہلے تقریباً سو سال انگریزوں کی حکومت میں گزارے۔ وہ ایک مشکل دور تھا۔ ہمارے بزرگوں نے اس دور میں بے شمار قربانیاں دیں۔ ان کی زمینیں چھینی گئیں، ان پر ظلم ہوئے اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا کر رکھا گیا۔


ایک خوددار اور مسلمان قوم کے لیے کسی دوسرے کی محکومیت قبول کرنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔ اسلام ہمیں صرف ایک اللہ کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔ اسی نظریے نے ہمیں غلامی کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا۔ اسی لیے ہمارے بزرگوں نے سالوں کی انتھک جدوجہد، قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت اور لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے بعد ہمیں یہ آزاد وطن پاکستان دیا۔


الحمدللہ! 14 اگست 1947 کو ہم آزاد ہو گئے۔


قیامِ پاکستان کا اصل مقصد کیا تھا؟


پاکستان صرف ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ اس کے پیچھے ایک بہت بڑا نظریہ تھا۔ وہ نظریہ تھا ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست کا قیام جہاں:


1. 

 ہر شہری کو انصاف ملے، چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔

2.  

قانون کی حکمرانی ہو، طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہو۔

3. 

 ہر مسلمان کو اپنے دین پر آزادانہ عمل کرنے کی آزادی ہو۔

4.  

وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور کوئی بھوکا نہ سوئے۔


قائداعظم نے فرمایا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔ یہ ایک ایسی ریاست ہونی تھی جو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر قائم ہو۔


1947 سے 2022 تک - ہم نے کیا کھویا، کیا پایا؟


آزادی تو ہمیں مل گئی، لیکن 75 سالوں میں ہم اس اصل مقصد سے کتنا قریب ہوئے اور کتنا دور؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر باشعور پاکستانی کے ذہن میں آتا ہے۔


ہم نے بہت کچھ پایا بھی۔ ہم ایک ایٹمی طاقت بنے، ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے، ہمارے نوجوان دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہم نے بہت سے چیلنجز کا بھی سامنا کیا۔


کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ ہم آج بھی کئی طرح کی پوشیدہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔


کرپشن کے نظام کی زنجیر۔

جب میرٹ کی جگہ سفارش اور رشوت لے لے تو ایک عام آدمی کا نظام پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔

ناانصافی کے نظام کی زنجیر۔

جب ایک غریب کو انصاف کے لیے سالوں عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑیں تو وہ مایوس ہو جاتا ہے۔

غلامانہ سوچ کی زنجیر۔

ہم آج بھی کئی معاملات میں مغربی سوچ اور ان کے بنائے ہوئے معاشی نظام پر انحصار کرتے ہیں۔ ہماری اپنی تحقیق اور خودداری کم ہوتی جا رہی ہے۔

موروثی سیاست کی زنجیر۔

 جب سیاست چند خاندانوں تک محدود ہو جائے تو ایک  عام، قابل اور ایماندار آدمی کے لیے آگے آنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔


جب تک یہ زنجیریں موجود ہیں، قائداعظم کے پاکستان کا حقیقی خواب کیسے پورا ہوگا؟


نظام میں بہتری کی ضرورت


کیا اس نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت نہیں؟ یہ سوال آج ہر گھر میں ہو رہا ہے۔ آج اگر کوئی بھی شخص، کوئی بھی لیڈر اس پرانے اور فرسودہ نظام میں بہتری کی بات کرتا ہے، تو کیا ہمیں بحیثیت قوم متحد ہو کر مثبت تبدیلی کا ساتھ نہیں دینا چاہیے؟


ہمارا موجودہ نظام کئی بیرونی دباؤ کا شکار رہتا ہے۔ اکثر فیصلے عوامی امنگوں کے بجائے بیرونی مالیاتی اداروں کے دباؤ میں کیے جاتے ہیں۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جو اپنے فیصلے خود کرے۔


ہمیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جس کا اپنا واضح نظریہ ہو، جو اپنے فیصلے خود کرے، جو ڈالروں کے بجائے عوام کے سامنے جوابدہ ہو اور جو ملک کے مفاد پر کبھی سمجھوتہ نہ کرے۔


"تاریخ سے سبق"


تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ 1806 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کیسے تجارت کے بہانے ہندوستان میں داخل ہوئی اور پھر ہمارے اندرونی اختلافات اور اپنوں کی غداریوں کا فائدہ اٹھا کر یہاں سو سال تک قابض رہی۔ ہمیں آج بھی اس تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا۔ ہمیں اپنے چھوٹے اختلافات کو بھلا کر اپنے ملک کے بہترین مفاد میں متحد رہنا ہوگا۔


اگر ہم آج متحد نہ ہوئے تو خدانخواستہ تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے، لیکن اس بار کمپنی کی شکل مختلف ہوگی۔

حقیقی آزادی کا روڈ میپ کیا ہے؟


حقیقی آزادی صرف جھنڈے لہرانے کا نام نہیں۔ حقیقی آزادی تین چیزوں سے آتی ہے۔


1. تعلیم

 جب تک ہماری قوم تعلیم یافتہ نہیں ہوگی، وہ اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر سکے گی۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جدید سائنس اور اپنے دین دونوں کی تعلیم دینی ہوگی۔


2.انصاف

انصاف ہی ایک قوم کو جوڑتا ہے۔ جب ہر شہری کو یقین ہوگا کہ اسے انصاف ملے گا تو وہ قانون کا احترام کرے گا۔

3. معاشی خودمختاری

جب تک ہم قرضوں پر چلیں گے، ہم آزادانہ فیصلے نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا، اپنی برآمدات بڑھانی ہوں گی۔


عوام کو بیدار ہونا ہوگا اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔


آج پاکستان کی 22 کروڑ عوام، خاص طور پر نوجوان، ایک ایسے بہتر پاکستان کا خواب دیکھتی ہے جو خوددار ہو، خودمختار ہو، جہاں انصاف ہو اور جہاں ہر پاکستانی کو عزت ملے۔


اس ملک کی بقا اور ترقی کی اس جنگ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟

اس بارے میں

ذرا نہیں

پورا سوچیں


ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اسی پرانے نظام کا حصہ بنے رہیں گے یا ہم ایک نئے اور بہتر پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے؟ ہمارا ایک ووٹ، ہماری ایک آواز بہت اہمیت رکھتی ہے۔


اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ہر قسم کی اندرونی اور بیرونی مشکلات سے محفوظ رکھے اور ہمیں ایک خوددار، خوشحال اور متحد قوم بنائے۔ آمین۔


جشنِ آزادی 2022 - 75واں یومِ آزادی تمام اہلِ وطن کو بہت بہت مبارک ہو

پاکستان زندہ آباد 🇵🇰


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ظالم کا انجام - فرعون سے ہٹلر تک عبرت کی کہانیاں

May2025 کی صورتِ حال پر ایک نظر۔ امید کی کرن

عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو - خطبہ حجۃ الوداع کا بھولا ہوا پیغام