کراچی,مون سون 2022 بارش کے بعد تباہی اور حل
کراچی مون سون ٢٠٢٢
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے۔ یہ شہر سب سے زیادہ ریونیو جنریٹ کرتا ہے۔ لیکن ہر سال مون سون کی بارشوں میں اس شہر کا حال سب کے سامنے آ جاتا ہے۔
2022
کی مون سون بارشوں نے ایک بار پھر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ 74 سال گزرنے کے بعد بھی کیا ہمارے شہر کا انفراسٹرکچر بارشوں کے لیے تیار ہے؟
کراچی کے بنیادی مسائل
کراچی والے اکثر شکایت کرتے ہیں کہ دوسرے صوبوں میں ترقی ہوئی لیکن کراچی میں نہیں۔ اس شکایت کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں طویل عرصے سے شہری منصوبہ بندی پر توجہ نہیں دی گئی۔
آپ خود دیکھیں، سندھ اور کراچی میں دہائیوں سے مختلف حکومتیں رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان دہائیوں میں کراچی کے بنیادی مسائل جیسے پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور نکاسی آب پر کتنا کام ہوا؟
بارش کا نظام - سب سے بڑا چیلنج
بارش کے نظام کو ہی دیکھ لیں۔ آج تک کوئی مستقل اور جدید نظام قائم نہیں ہو سکا۔
جب بھی تیز بارش ہوتی ہے تو:
1.
سڑکوں پر کئی کئی دن تک پانی کھڑا رہتا ہے۔
2.
نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے۔
3.
بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ آنے سے قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
4.
نالے ابل پڑتے ہیں اور پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔
کیا ایک جدید میگا سٹی کا یہی حال ہونا چاہیے؟
وجوہات کیا ہیں؟
اس کی کئی وجوہات ہیں جن پر ہمیں غیر جانبدار ہو کر سوچنا ہوگا۔
1.
نالوں پر تجاوزات: ماضی میں کئی قدرتی برساتی نالوں اور ندیوں کو ختم کر کے وہاں تعمیرات کر دی گئیں۔ جب پانی کو اپنا قدرتی راستہ نہیں ملے گا تو وہ آبادیوں میں داخل ہوگا۔ یہ ایک شہری منصوبہ بندی کی بڑی ناکامی ہے۔
2:
چائنہ کٹنگ اور غیر قانونی تعمیرات
کئی علاقوں میں غیر قانونی طور پر زمینوں کی کٹنگ کر کے وہاں آبادیاں بسا دی گئیں بغیر کسی نکاسی آب کے منصوبے کے۔
3:
سیاسی عدم استحکام: جب بھی الیکشن آتے ہیں تو مختلف جماعتیں اتحاد کر لیتی ہیں لیکن شہر کے مسائل پر کوئی طویل مدتی پالیسی نہیں بنتی۔ نتیجہ یہ کہ عوام ہر سال بارش میں مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔
حل کیا ہے؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ "مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا"۔ ہمیں بھی اب اس سے سبق سیکھنا ہوگا۔
ہمیں جذباتی نعروں سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر سوچنا ہوگا۔
کراچی کے مسائل کا حل صرف تین چیزوں میں ہے:
1. میرٹ پر مبنی بلدیاتی نظام: ایک ایسا بااختیار میئر سسٹم جو براہ راست عوام کو جوابدہ ہو۔
2. جدید نکاسی آب کا نظام:
دنیا کے بڑے شہروں کی طرح کراچی میں بھی بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور نکالنے کا جدید نظام بنانا ہوگا۔
3. تجاوزات کا خاتمہ: تمام قدرتی نالوں کو ان کی اصل حالت میں بحال کرنا ہوگا۔
کراچی والوں کو اب ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے 74 سال میں اپنے شہر کے لیے کیا کیا اور اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اس بارے میں
ذرا نہیں
پورا سوچیں۔


👍🏻👍🏻👍🏻
ReplyDelete💯 true
ReplyDelete