ٹی وی اشتہارات اور عوام کی پریشانی - ایک طنزیہ جائزہ






*ٹی وی اشتہارات اور عوام کی پریشانی - ایک طنزیہ جائزہ*

ابھی عوام "Must ہے تو Trust ہے" اور 

"Is mein Trust hi Trust hai" 

کے چکر سے پوری طرح باہر نہیں نکلی تھی کہ چائے والا بسکٹ کا حملہ ہو گیا۔

ابھی اسی سے جان نہ چھوٹی تھی کہ "میرے دیس کا بسکٹ Gala" نے ہمارے دماغوں پر ہتھوڑے برسانا شروع کر دیے۔ سمجھ نہیں آتا کہ کیوں اتنے عجیب و غریب ہوتے ہیں یہ اشتہارات؟ کون سا بھونڈا راگ الاپ رہے ہوتے ہیں کہ جن کے چلنے سے دل کرتا ہے کانوں میں روئی ٹھونس لیں۔

نہ تو بسوں میں لٹک لٹک کے ناچتے ہوئے چائے پینا ہمارے کلچر کا حصہ ہے، نہ یوں بیچ سڑک پر راہ چلتے کسی کی چائے میں اپنے بسکٹ کو تیرانا۔

Gala
کو لے لیجیے، اسے پورے دیس کا بسکٹ بنا دیا۔ ایک تو یہ Zong 4G کا اشتہار سمجھ نہیں آتا، "کالے رنگ کا پراندہ سجنا لے آندا" سے زونگ کے فور جی کا کیا تعلق ہے؟ اللہ جانے کون سے گاؤں میں یوں پرونے کے ساتھ جوان لڑکیاں مزے سے بیٹھ کر لسی بلو رہی ہوتی ہیں۔

ابھی اللہ اللہ کر کے مرچ کھا کر چیخیں مارنے والی باجی سے جان چھوٹی تھی کہ Sprite نے ایک اور حملہ کر دیا۔ مرچیں کھائیں، سپرائٹ پی کر کان پھاڑتی چیخیں ماریں اور داد وصول کریں۔

اور اب ایک نیا مواد ہماری اشتہاری ایجنسیوں کی جانب سے پیش کیا گیا، "وہ" ایک جن ہے جو سب کچھ رائٹ کر دے گا۔ بس Bright لے آئیں، سب رائٹ ہو جائے گا۔ یہ ان کا دعویٰ ہے۔

ایک تو یہ موازنے بھی سمجھ سے باہر ہیں۔ اب چائے کا Coffee اور Coca Cola سے بھلا کیا مقابلہ؟ تینوں کا اپنا الگ مقام ہے۔ جو چائے کے دیوانے ہیں وہ آپ کے یہ موازنے دیکھ کر ہرگز چائے نہیں چھوڑیں گے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ خدارا ان ٹی وی اشتہارات کا معیار بدل دیجیے۔
یہ اشتہارات صرف کوفت کا باعث بنتے ہیں، نہ عوام کو ان سے تفریح ملتی ہے اور نہ ہی کوئی اچھا پیغام۔




Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ظالم کا انجام - فرعون سے ہٹلر تک عبرت کی کہانیاں

May2025 کی صورتِ حال پر ایک نظر۔ امید کی کرن

عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو - خطبہ حجۃ الوداع کا بھولا ہوا پیغام