Posts

Image
جنِہوں نے ملک کو لوٹا ,نوچا ,  کھسوٹا , بیچا, کھایا انُھیں عیاشی کی ہر اجازت ہے یعنی ایک بار اقتدار میں آٶ ملک کو لوٹو کھاٶ اپنے بینک اکاٶنٹس بھرو اور شان سے آٶ اور پھر دوبار ہم پر مسلط ہوجاٶ ۔ نہ کسی قانون کے آگے جواب دہ نہ ہی کوٸی شرمندگی۔ اور جس نے ملک کے مفاد کی بات کی۔ اپنی ذات اپنی فیملی اپنی ترجیحات کو پسِ پشت رکھ کر ملک کے فاٸدے کی لیے کام کیے اُس کو جیل میں ڈال دیا؟ کیا اس ملک میں کبھی انصاف کا قانون آٸے گا؟ یاں  ہماری طرح ہماری نسلیں بھی اس ہی گندے نظام کی بھینٹ چڑھیں گی؟ کیا عوام کے فیصلے کی کوٸی حیثیت نہیں ہوگی؟ یہ آزماٸے ہوٸے کرپٹ سیاست دان ہی ہمیشہ ہمارا مقدر رہے گا؟ ابھی یہ ہیں ان کے بعد ان کی نکمی اولاد ہوگی۔ کیا ہمارا ملک کبھی ان چوروں سے رہاٸی پاٸے گا یاں نہیں؟ کیا اس ملک کا نظام کسی ایماندار کو چلانے کی اجازت نہیں ملے گی؟ اگر تو الیکشن ہونے دیے جاتے ہیں تو یہ آخری کوشش ہمیں کرنی ہوگی۔ انصاف کا ساتھ دے کر یہ بلاوجہ کی دھونس اور بدمعاشی کو ہمیں ہر حال میں ہرانا ہوگا ہمیں ہر صورت خان کو جتوانا ہوگا۔ اس ملک کو سچے ایماندار حاکم کی ضرورت ہے اسراٸیل امریکہ اور انڈ...

عمر ِ فاروقؓ یکم محرم الحرام

Image
خلیفہِ دوم فاتحِ روم و ایران مرادِ رسول ﷺ مشیرِ ابو بکرؓ دامادِ علیؓ ؓسیدنا عمرِ فاروق تمام اصحاب ؓ مریدِ مصطفی ﷺ ہیں، اُن میں سے اگر کوٸی مرادِ مصطفی ﷺ ہے تو اُنھیں  سیدنا عمرِ فاروق ؓ کہتے ہیں۔   جو  خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد فرماتے تھے کہ اگر میری جو بات بھی  قابلِ اعتراض لگے تو مجھے اُس پر ٹوک دیا جاۓ۔ دلیری اور ہمت کا عالم دیکھیٸے۔  سبحان الله اور آج والے فرماتے ہیں کہ ہم سےحساب نہ مانگنا  کوٸی کون ہوتا ہے بھلا ہم سے کھربوں کی جاٸیداد اور بینک اکاٶنٹس کا حساب مانگنےوالا ۔ 😒  آج ملک کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایسے میں عمرِ فارق ؓ بہت یاد آتے ہیں 😥 وہ جو اپنے دورِ حکومت میں ایک جانور کے پیاسے مرجانے کی  فکر رکھتے تھے کہ اِس کا بھی اللہ مجھ سے سوال  کرے گا۔ اور آج ہمارے حکمران ہیں کہ جناب یہاں انسان خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں لیکن  اُن کو فکر نہیں۔  بھوک افلاس فاقہ کشی میں عوام گِھری ہے۔ کوٸی پوچھنے والا نہیں ۔ وطن میں غربت کا حال کہاں سے کہاں پہنچ چُکا ہے۔ اُن کا دور تھا تو خوشحالی کا یہ عالم تھا کہ دینےو...

ڈیجٹل کانٹینٹ اور ہماری ڈرامہ انڈسٹری

Image
ہمارا معاشرہ آج نفسا نفسی کا شکار ہے۔ ہر جگہ پھیلی بے راہ روی ہمارے معاشرے کی ایک تلخ سچاٸی ہے ایسے میں ڈیجیٹل کاٹینٹ دیکھنےوالوں پر اپنا خاص اثر رکھتا ہے۔ یوتھ  میں جیسے سوشل میڈیا کا ایک اہم رول ہے ایسے ہی ہماری نوجوان نسل  ٹی وی تھیٹر ، سینما کی بھی شیداٸی ہے ۔ کیا ان میں  دکھاے جانےوالا کانٹینٹ کا چُناٶ کرنے میں احتیاط کی ضروت نہیں ہونی چاہیے؟ ہمارے ہاں  عوام کو کس قسم کے ڈرامے  دکھا رہے ہیں ؟  ان کا ماٸنٹ سیٹ کررہے ہیں۔ڈرامے میں دیا جانے والا  بڑا سبق اتنا اثر نہیں چھوڑتا جتنا اکثر اوقات ایک چھوٹا منظر لاکھوں نوجوانوں بالخصوص کم عمر کچی ذہن کے ناظرین کے ذہنوں پر اثر انداز ہوجاتا ہے۔ آپ مستقل ایک ہی چیز  عام عوام کو دکھاٸیں گے  تو نوجوان نسل اس ہی ذاویے سے  اُس پہلو پر سوچے گی۔ آپ صرف ساس، بہو ، سسرال کے منفی رول دکھاتے رہیں گے تو  دیکھنے والے اپنی سوچ میں یہ منفی مزاج شامل کرلیں گے   کہ جی سسرال صرف بُری ہی ہوتی ہے اور ساس سسر نند دیور صرف منفی  قسم کے ہی افراد ہوتے ہیں۔ ایسےتو نوجوان لڑکیاں یہ منفی سوچ لےکر ان ر...

الوداع سال ٢٠٢٢

Image
یہ سال بھی آخر بیت گیا سال پہ سال گزر رہے ہیں۔ زندگی جیسے اپنی ڈگر پر بھاگ رہی ہے۔ صدیوں سے یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ایک کے بعد ایک سال آتا اور جاتا ہے۔  پر بھی نہ جانے کیوں ہر گزرتا سال اُداس سا کر جاتا ہے۔ ٢٠٢٢ دیکھا جاٸے تو کورونا کا زور ٹوٹتا دکھاٸی دیا اور پھر الحَمْدُ ِلله پاکستان نے  اِس بیماری سے مکمل نجات حاصل کرلی۔ ٢٠٢٢ کے شروع ہوتے ہی آٹھ جنوری کو سانحہ مری نے عوام کو دکھ و غم میں مبتلا کردیا تھا۔ جس حادثے کے نتیجے میں متعدد فیملیز برف باری کے طوفان میں پھنس کر بند گاڑیوں میں موت کی وادی میں چلی گٸیں۔  ملک کے مختلف علاقوں میں  لینڈ سلاٸڈنگ  کے حادثات۔  تمام سال مختلف شہروں میں کٸ خود کش دھماکے ریکارڈ کیے گۓ جیسے کہ کوٸٹہ پولیس موباٸل اٹیک سبی اٹیک پشاور مسجد حملہ جامعہ کراچی خودکش دھماکہ کراچی صدر مارکیٹ بم دھماکہ سوات ڈسٹرک خودکش دھماکہ لکی مروت اٹیک نومبر کے مہینے میں کوٸٹہ میں ایک اور دھماکہ میران شاہ خود کش دھماکہ بنو سی ٹی ڈی اٹیک اسلام آباد I-10 ایریا اٹیک۔  صوبہ سندھ میں جانوروں میں پھیلتی بیماری   Lumpy skin desease کا معامل...

Qatar Fifa Worldcup 2022

Image
غیرتِ ایمان  سیکھنی ہے تو قطر سے سیکھیں جنھوں نے پوری دنیا کے یہود و نصاری کو ایک جملے میں سیدھا کر کے رکھ دیا کہ ہم  28 دن کی خاطر اپنا مذہب  نہیں بدل سکتے۔ اور مغربی ممالک کا ردِعمل دیکھ کر ہنسی آرہی ہے کہ جو خود اپنے ملک میں لا ٕ آف دا لینڈ کی پاسداری آٶٹ ساٸڈرز سے بھی کروانے کے خواہاں ہیں پھر آپ کو قطر کےقوانین کا بھی احترام کرنا چاہیے۔  اگر اِن کے ملک میں حجاب پر پابندی ہے تو یہ تمام مذاہب کے ماننے والوں  کو اپنے قانون کو ماننے کا پابند کرتے ہیں دوسری طرف ایک مسلمان ملک جب اِن کو اپنے اصولوں کا احترام کرنے کا کہتا تو یہ اعتراض کرتے ہیں۔ اور اُس ملک کا باٸیکاٹ کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ یہ مغربی ممالک قطرکا باٸیکاٹ کرنے کی باتیں کر رہے ہیں کیوں کہ قطر نے ان کو یہ کہا کہ  فٹ بال کے اس ورلڈ کپ کو دیکھنے جو بھی آٸے اُسے   ہماری روایات  کا احترام کرنا ہوگا۔ ہم 28 دن کے لیے اپنا مذہب ہیں تبدیل کرسکتے۔ بھٸ واہ 😆 سبحان الله 😀😃 اور دوسری طرف ہمارے ہاں ایک مخصوص سوچ و فکر رکھنے والا طبقہ  ٹرانسجینڈروں کے حقوق کے بخار میں مبتلا ہیں ۔ ...

جشنِ آزادی مبارک

Image
  ہم آزاد تو ہوٸے تھے پچھتر سال پہلے اُس سے پہلے انگرزوں نے سو سال ہم پر حکومت کی ہم ١٠٠ سال اُن کے  غلام ، محکوم رعایا رہے۔ ظلم بھی سہے، نا انصافیاں بھی غلامی کی ذلت بھی ایک مسلمان کے لیے انسانوں کی غلامی کرنابہت مشکل کام ہے کیوں  کہ مسلمان صرف ایک اللہ کے آگے جھکتے ہیں تو ایسے میں کسی انسان اور وہ بھی کفار کے آگے جھکنا کیسے انھیں شیوا دے سکتا ہے؟ کیسے وہ خاموش غلام بن کر  ہندوستان میں غلامی کی زندگی بسر کرتے رہتے؟  اس ہی لیے سالوں کی جِدوجہد اور کاوشوں کے بعد اور بیس لاکھ سےزیادہ جانوں کا نزرانہ دینے کے بعد چودہ اگست کا دِن دیکھنا نصیب ہوا۔ الله أكبر آزای تو اللہ نے ہمیں دِلا دی تھی پھر بھی آج ٢٠٢٢ تک  ہمیں غلام بناٸے رکھا یہاں پر انگریزوں کے چھوڑے ہوٸے مہروں نے ، اس نظام کو نافذ کرنے والے سیاستدانوں نے اِن سیاسی جماعتوں نے  اِن غیر منصف عدالتوں نے اِداروں نے۔ ہمیں غلام بناٸے رکھا  کرپٹ سسٹم کا غلام ظالم کا غلام مافیا کا غلام انگریزوں کا غلام یہود و نصارا کا غلام غلامانہ ذہنیت کا غلام نام نہاد چند ایک مذہبی ٹھیکیداروں کا غلام۔ نسل در نسل  چ...

Karachi Rain 2022 مون سون

Image
  کراچی مون سون ٢٠٢٢  پچھلے تین سالوں کا عمران خان اور  PTI  سے حساب مانگنے والوں  زرا بتاٶ۔۔۔ 74 سال ہوگۓ ملک آزاد ہوۓ۔ کراچی اور سندھ پر کون ، کتنےعرصے سے برسرِاقتدار ہے یہ سب جانتے ہیں۔ کیا حال ہے اس صوبے کا؟ اس شہر کا؟ کراچی والے اس بات کو لے کر بہت اعتراض کرتے ہیں کہ پنجاب کو بنا دیا نون لیگ نے ، خان نے  کے پی کے کو کھڑا کردیا ۔ اس حسد میں جلنے کڑھنے سے کیا فاٸدہ جب یہاں کے سیاستدانوں کو ہی اس شہر اورصوبے کی بہتری کی  کوٸی پرواہ ہی نہیں ؟    کراچی کتنا ریونیو جینریٹ کرتا ہے اس کا بھی ہم خوب حساب کتاب  انگلیوں پر رکھتے ہیں کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے یہ نعرے بھی خوب لگاتے  ہیں لیکن کیا فاٸدہ اس شہر کی محنت جب یہ مقامی لٹیرے مٹی میں ملا رہے ہیں۔ یہ بتاٸیں کہ اتنے سالوں میں سندھ اور کراچی میں برسرِ اقتدار رہنےوالی سیاسی جماعتوں نے  سندھ اور کراچی کے کتنے مساٸل کا خاتمہ کیا ؟ بارش کے نظام کو ہی دیکھ لیں۔ آج تک کوٸی ڈھنگ کا انتظام ان سب سے نہ قاٸم  ہوسکا بارش کے معاملے میں۔  پانی کھڑا ہے تو کٸ کٸ دن کھڑا  رہ...