ایک کچوری دو سموسہ، ان مردوں کا کیا بھروسہ
ایک وائرل نعرے کے پیچھے کی کہانی
"ایک کچوری دو سموسہ، ان مردوں کا کیا بھروسہ" یہ لائن آج کل ہر کسی کی زبان پر ہے۔ یہ نعرہ انڈیا میں ایک وومنز پروٹیسٹ کے دوران ایک لڑکی نے مزاحیہ انداز میں کہا تھا۔ اس نے کچوری اور سموسے کی سادہ سی مثال دے کر اعتبار کے ٹوٹنے کی بات کی۔ اس کے بعد یہ لائن 2025/26 کا سب سے بڑا سوشل میڈیا ٹرینڈ بن گئی۔ اس پر ہزاروں Reels بنیں، ٹک ٹاک پر میمز بنے، اور خاص بات یہ ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکے بھی اس پر مزاحیہ ویڈیوز بنا رہے ہیں۔
ایک کچوری دو سموسہ - مذاق کے پیچھے چھپا ہوا معاشرتی آئینہ
سوشل میڈیا پر آج کل یہ جملہ ہر جگہ سننے کو مل رہا ہے۔ دیکھنے میں یہ ایک مزاحیہ لائن لگتی ہے، لیکن اس کے وائرل ہونے کے پیچھے ایک گہری معاشرتی وجہ چھپی ہے۔
یہ لائن وائرل کیوں ہوئی؟
یہ جملہ بنیادی طور پر اعتبار کے ٹوٹنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب لوگ رشتوں میں دھوکہ دیکھتے ہیں تو ان کے اندر ایک خوف اور بے اعتباری پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لائن میں کچوری اور سموسے کا ذکر صرف طنز کے طور پر کیا گیا ہے، اصل بات اعتبار کی ہے۔ اور ہمارا معاشرہ ایسے ٹوٹے ہوئے اعتبار کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔
:یہ جملہ ٹھیک بھی ہے اور غلط بھی
ٹھیک اس لیے ہے کہ حقیقتاََ یہ دھوکے بازی اب بہ عام ہوچکی ہے۔ بہت سی لڑکیوں کو شادی کے نام پر دھوکہ ملتا ہے، بیوی بچوں کے ہوتے ہوئے افیئرز چلائے جاتے ہیں، اور بہت سے گھروں میں ناانصافی دیکھی جاتی ہے۔ اس لیے بہت سے لوگ اس جملے کو اپنی ذاتی زندگی سے جوڑ لیتے ہیں۔
:ڈرامہ درِ نجات کے کردار زامل کی مثال
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے عمیرہ احمد کے مشہور ڈرامہ "درِ نجات" کے کردار زامل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ زامل وہ لڑکا ہے جو زریاب کو محبت اور شادی کے خواب دکھا کر رشتے میں لاتا ہے، لیکن جب ذمہ داری نبھانے کا وقت آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے اور الٹا لڑکی کو ہی اس کے ماضی کا طعنہ دیتا ہے۔ ایسے کردار ہمارے معاشرے میں کم نہیں، جو شادی کے نام پر وقت گزاری کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب لڑکیاں ایسے کردار دیکھتی ہیں تو ان کے منہ سے بے اختیار
"ان مردوں کا کیا بھروسہ" جیسا جملہ نکلتا ہے۔
 |
| معاشرے کے ذمہ دار مردوں کا اصل چہرہ |
:لیکن دوسرا رخ بھی دیکھنا ضروری ہے
اسے ہر مرد پر فٹ کر دینا سراسر غلط اور ناانصافی ہوگی۔ ہر مرد دھوکے باز نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے کا اصل مرد صبح سے رات تک سردی گرمی کی پرواہ کیے بغیر انتھک محنت میں مشغول ہے۔ اس کی سوچ کا محور صرف اس کا گھر اور گھر کے مسائل حل کرنا ہوتا ہے۔ اپنے گھر والوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرنے کے لیے وہ دن رات ایک کر دیتا ہے۔ آج بھی لاکھوں مرد اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی عزت کے محافظ بن کر کھڑے ہیں۔ برائی کسی جنس میں نہیں، بلکہ سوچ اور تربیت میں ہوتی ہے۔
اس ٹرینڈ سے ہمیں کیا سیکھنے کو ملتا ہے؟
یہ ٹرینڈ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں رشتوں میں سچ اور وفاداری کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ اگر نکاح کو آسان، جھوٹ کو مشکل، اور رشتوں میں دین داری کو عام کیا جائے تو ایسے جملوں کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ یاد رکھیں، اعتبار کچوری سموسے سے نہیں، کردار سے بنتا ہے۔
:نتیجہ
یہ جملہ کسی جنس پر حملہ نہیں، بلکہ ایک اصلاح کا موقع ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مرد اور عورت کی لڑائی سے نکل کر، اچھے کردار اور سچے رشتوں کو فروغ دیں۔ تب ہی معاشرے میں کھویا ہوا اعتبار واپس آئے گا۔
تازہ ترین اپ ڈیٹ (02 اکتوبر 2026):
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے بھی اسی نعرے کو اپنے انداز میں کہا "ایک کچوری، دو سموسہ... آپ سب کا مجھ پر بھروسہ!"
Comments
Post a Comment