Posts

عبادت گاہیں Places of worship

Image
پاکستان کیوں بنا تھا؟ پاکستان بننے کی وجوہات کے بارے میں سوال کیا جاۓ تو آپ کے ذہن میں کیا وجوہات آٸیں گی؟؟  ایک آزاد خود مختار مملکت جہاں صرف مسلمان ہی نہیں کسی بھی مذہب کے ماننے والے آزادی سے جی  سکیں جہاں انہیں  ہر طرح کی مذہبی آزادی ہو۔ 1947  میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں نے   پاکستان کو ووٹ کیوں دیا؟  انہوں نے ہندوستان کے بدلے پاکستان  کو اپنا گھر بنانا کیوں پسند کیا؟ اس لیے تاکہ وہ یہاں بھی آزاد  شہری کی حیثیت سے پاکستانی بن کر رہ سکیں۔  جہاں انھیں مذہبی آزادی بھی حاصل ہو۔   قاٸدِ اعظم نے پاکستان کے ہر شہری کو برابر درجہ  دیا۔    دینِ اسلام ایک خداِ واحد کی عبادت کی تلقین کرتا ہے۔ اور دوسرے مذہب کےافراد پر اپنے عقاٸد بدلنے اور اسلام میں داخل ہونے کے لیے کسی قسم کی زور زبردستی یاں دباٶ نہیں ڈالتا۔ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے۔ ہر فرد کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کی تعلیم دینے والا دین کہ جس کا کوٸ پہلو ایسا نہیں کہ جس میں انسانیت کی منافی ہو۔ آپ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں اپنے لیے مذہبی آزادی کی خواہش کرنا آپ کی لازمی خ...

اسلامی تہذیب اور ادب

Image
ادب براۓ زندگی زندگی براۓ بندگی زندگی بے بندگی شرمندگی شرمندگی کہتے ہیں ادب بڑی کمال کی چیز ہے جو انسان کو ان بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے  جن کو پانے کے لیے عام طور پر بڑے جتن کرنے پڑتے ہیں۔    ایک ڈاکٹر صاحب کا واقعہ ہے کہ وہ اکثر نسخے پر ڈسپنسر کے لیے لکھتے کہ اس مریض سے پیسے نہیں لینے۔ اگر کبھی کوٸ مریض اس بابت پوچھتا کہ جی آپ نے پیسے لینے سے منع کیوں کیا تو وہ ڈاکٹر یہ جواب دیتے کہ کہ جس کا نام ابوبکر ھو، عمر ھو، عثمان ھو، علی ھو یا خدیجہ، عائشہ اور فاطمہ ھو تو میں ان سے پیسے لوں؟ تمام عمر انہوں نے ان مقدس ہستیوں کے ھم نام لوگوں سے پیسے یاں فیس نہیں لی۔  یہ ان کے ادب اور محبت کا انداز تھا ( آج ایسا کیا جاۓ تو سوال ہوگا کہ جی اس فعل کو  قرآن و حدیث سے ثابت کرو) امام احمد بن حنبل نہر کے کنارے  وضو فرما رہے تھے۔ کہ ان کے ایک شاگرد بھی وضو کرنے آجاتے ہیں لیکن فوراً ہی اٹھ کھڑے ھوے اور امام صاحب سے آگے جا کر بیٹھ گۓ پوچھنے پر کہا کہ دل میں خیال آیا کہ میری طرف سے پانی بہہ کر آپ کی طرف آرہا ہے مجھے شرم آٸ کہ استاد میرے مستعمل پانی سے وضو کریں۔  (آج ایسا ہوت...

فرق

Image
کامل تو دینِ اسلام ہی ہوا جس میں کسی عجمی ک و عربی پہ عربی کو عجمی پہ فوقیت نہیں کالے کو گورے پہ اور گورے کو کالے  پر ۔ یہ  انسانیت کے نام نہاد  ٹھیکیدار  سیولاٸیزڈ نیشن کے علم بردار , جب انکی اصلیت کھنگالو تو اندر سے بڑی ہی گھناٶنی تصویر نکلتی ہے۔جی ہاں بات ہورہی ہے امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فارم کے بیہیمانہ قتل پر۔ اور افسوس تو اپنےلوگوں پر بھی ہےجو انسانیت کی مثال ان کو بناتے ہیں۔ جو انسان کہلانےکے بھی لاٸق نہیں۔ ٢٠٢٠ میں بھی جن کے اندرکی نفرت کایہ لیول ہے کہ اس قدر سفاقیت سے کسی کی جان لی جاۓ۔  یہ  ایک اور مثال ہے مغرب کی پستی کی اور ہمارے لیے سبق کہ ہم کیوں متاثر ہوتے ہیں بھلا ان سے؟ ہمیں خود میں کمی خامی نظر آتی ہے اور ان   کو خوبیوں کا پیکر سمجھتے ہیں۔ دیکھ لیں خوبیوں کے نظارے۔  اس واقعہ پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کی چالیس ہزار سے ذیادہ گرفتاریاں ہوچکی ہیں ۔ ہماری عوام کو اس واقعے کے ذکر کرنے سے ہمارے ہاں کی براٸیاں اور خامیاں نظر آنا شروع ہوجاتی ہیں تو جناب دونوں معاشروں کے فرق کو  ملحوظِ خاطر رکھ کر موازنہ کیجیے۔ ہم ٹ...

ادب

Image
Add caption اللہ کا راستہ ہے بھیڑ انسانوں کی مگر وہ ٣١٣ کا لشکر نہیں ملتا۔ بدرکا مقام ٣١٣ بالمقابل ١٠٠٠ کفار ایمان کی دولت ٣ گنا تعداد پر بھی بھاری تھی ۔ کیوں کہ کیا کیوں کیسے اگر مگر کی عادت نہ تھی۔ اللّہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر سر تسلیمِ خم کرنے والی جماعت تھی۔ منطق یا دلیل مانگنےوالی نہیں۔  اللہ نے  پھر اپنے نبی اور ان کےاصحاب کی مدد فرماٸ فتح سے ہمکنار بھی کروایا ۔  پھر زمین و آسمان نے دیکھا کہ یہ٣١٣ کا لشکر دیکھتے ہی دیکھتے کیسے دنیاپر چھا گیا فتوحات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جس نے اللہ کے پیغام کو ساری دنیا میں عام کیا۔ اللّہ نے اصحابِ رسول کو دنیا میں عزّت بھی عطا کی اور آخرت میں جنّت کی ضمانت بھی دی۔  تمام کے لیے فرمادیا کہ اللہ ان سے راضی ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں دینِ اسلام میں داخل ہونےوالی شخصیات جن کے ایمان کو اور زندگی کو آج ہمارے ہاں ترازو میں تولا جاتا ہے۔ ہمیں اللہ کا راستہ بتانےوالی ذات رب کی پہچان کرانے والی ہستیاں۔ اللہ نے دین اور قرآن ہرانسان کےدل میں ڈاٸیریکٹ نہیں اتار دیا۔ اللہ نے ہر دور میں انسانیت کی بھلاٸ اور رہن...

لاک ڈاٶن میں خریداری

Image
خواتین  ہوشیار رہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کافی دنوں سے شاپنگ سینٹرز بند ہیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ آچکا ہے اب عید کی آمد آمد ہے اور اسی کے سلسلے میں ضروری اشیاء کی خریداری کرنی پڑتی ہے۔ عید قریب ہے بازار مارکیٹس بند ہیں۔ کچھ دکاندار اس طریقے کے مطابق اپنی دکانیں چلا رہے ہیں کہ شٹر کھول کر گاہک کو اندر سامان پسند کرنے کے لیے  آنے دے رہے ہیں اور باہر سے دوسرا بندہ شٹر بند کریتا  ہے تاکہ لاک ڈاٶن کی خلاف ورزی نہ ہوسکے۔ اوراس طرح خریدنے یہ ہمارامعاشرہ یہاں پر ہر طرح کے لوگ پاۓ جاتے ہیں۔ موقع سے فاٸدہ اٹھانے والےبھی۔ اور کورونا کی آڑ میں یہ معاملہ ہے کہ وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے یعنی کہ بہتی گنگا میں سب ہاتھ دو رہے ہیں۔ ویسے تو اس طرح کی ہونے والی خریداری پر عورتوں کو ہرگز نہیں جانا چاہیے نہ اکیلے نہ کسی کے ساتھ۔ عید قریب ہے خواتین چاہتے نہ چاہتے ہوۓبند شٹروں میں خریداری کرنے پر راضی ہوجاٸیں گی۔ ماٸیں بہینیں بیٹیاں سب کی ہیں۔  سب کی عزّت سانجھی ہیں۔ ہر کوٸ اتنا سمجھدار نہیں ہوتا کہ معاملے کی باریک بینی بھانپ لے۔ اس بات کا خاص خ...

یومِ مزدور اور لاک ڈاٶن

Image
یکم مٸ یومِ مزدور اور لاک ڈاٶن مزدوروں سے مزدوری چھین کر مناٸیں کون سا لیبر ڈے؟ ہمارے ہاں بس دن مناۓ جانےکا رواج پڑ چکا ہے ۔ دن کی اہمیت اور فاٸدے سےقطعی نظر۔ مزدور کے عالمی دن پر خوب شور مچانا ہے بھلے مزدور کے گھر فاقہ ہو۔ آج یومِ مزدور کی صورت ہی علیحدہ ہے۔پچھلے دو ماہ میں نہ جانے کتنے مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں,جن کا کوٸ   پرسانِ حال نہیں۔   روزگار کے مواقع نہیں۔ ہر طرف عجیب مایوسی چھاٸ ہے ۔ روز کے نۓ نۓ اعلانات کہ لاک ڈاٶن کم کردیں گے اور کبھی کہتے کہ مزید بڑھادیں گے اور سختی میں بھی اضافہ کردیں گے۔ کبھی مزدور اور  دیہاڑی دار کی فکر میں پرجوش بیانات اور پھر مستقل لاتعلقی۔  بیماری کا شورمچا ہے سوشل میڈیا کی ویڈیوز میں دھڑا دھڑ راشن بٹ رہا ہے۔  فنڈز اکٹھےہوۓ چلے جارہے ہیں لیکن بھوک ,غربت, افلاس جوں کی توں برقرار ہے۔ عوام پریشان ہے۔   کتنے لوگ ہیں جو اس تقسیم سے محروم ہیں۔ مزدور اور غریب ویسے ہی بے بسی کی تصویر بنا کھڑا ہے۔ جاۓ تو کہاں جاۓ؟ مانگے تو کس سے مانگے؟ وباء کے پھیلنے کی فکر کے علاو...

روٹی

Image
!!روٹی ”بھوکے کو فلسفہ نہیں روٹی چاہیے“ اس کی موت  سے پہلے میں نے اسے خودکشی سے بہت روکا اس نےمجھ سے پوچھا کہ کھانا لاۓ ہو یاں صرف فلسفہ؟ میں نےایک اور دلیل پیش کی کہ زندگی سے ہارنا بزدلی ہے۔ اس نے کہا کہ مگر میرے بچے وہ تو کٸ روز کے بھوکے ہیں۔ میں نے کہا رزق کاضامن تواللّہ ہے۔ کہا,  اللّہ ! کہاں ہے روٹی لایا ہے ؟؟ میں زچ ہوگیا ۔ ایک اور فلسفہ  گھڑ ڈالا۔ کہ اللّہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس نے کہا کیا بھوکوں کے ساتھ بھی؟  میں نے اس کو بہکایا زندگی بہت خوبصورت ہے۔ ہاں جواب دیا جب پیٹ بھرا ہو۔ جب بھوکے بچوں کی چیخیں سماعتوں سے ٹکراتی ہیں تو زندگی بدصورت بن جاتی ہے۔ !! اب میں نے اسے ڈرایا دیکھو خودکشی حرام ہے۔ ھاھاھاھاھا اس نے ایک دردناک قہقہہ لگایا جب زندگی حرام ہوجاۓ تو خودکشی حلال ہوجاتی ہے اور لٹک گٸ۔ تب مجھے مارکس کی کہی ایک کہاوت یاد آٸ کہ جب انسان کا پیٹ خالی ہو تو زندگی کا کوٸ فلسفہ اثر نہیں کرتا۔ یہ طبقاتی نظام جہاں پرصبر کا درس دینے والے زندگی کے حسین نغمے سنانے والے ہمیشہ شکم سیر ہوتے ہیں اور بڑی بڑی گاڑیوں سے اتر...