Posts

T 20 World Cup 2021

Image
“ہم خوش ہوۓ۔”  چوبیس اکتوبر کی فتح سے ہم سب بے انتہا خوش ہیں اس میں کوٸ شک نہیں۔ ہار جیت ہرکھیل کا حصہ ہے۔ ایک نےجیتنا ہے تو دوسرے نے لازمی ہارنا ہی ہے۔ لیکن جب بات آتی ہے پاکستان اور بھارت کرکٹ میچ کی تو جناب دونوں جانب کھلاڑیوں کےساتھ  ساتھ عوام بھی خاصی پر جوش ہوتی ہے۔ میچ سے پہلے سوشل میڈیا پر مختلف اشتہارات کا آغاز ہوجاتا ہے مختلف ویڈیوز اور پوسٹس کے ذریعے  ایک دوسرے کو چیلنج کیا جانا شروع ہوجاتا ہے۔ کہا جاۓ کہ ایک طوفانِ بدتمیزی شروع ہو جاتا ہےتویہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا۔ کھیل کو کھیل سے زیادہ اعصاب پہ سوار کرلیا جاتا ہے۔ اتنے بلند و بالا دعوے ایک دوسرےکے لیے کیے جا رہےہوتے ہیں کہ جو کھیل کے بعد ہارنے والے کے لیے ذلت کا باعث بنتے ہیں۔ کہنے کا مقصد اتنا ہے کہ مذاق بنانے مذاق اڑانے میں حد سے تجاوز نہ کریں۔ یہ دیکھ لیں کہ بھارت نے بھی اس میچ سے پہلے بہت طوفانِ بد تمیزی برپا کیا تھا۔ پھر ہار کے بعد بے انتہا رسواٸ اٹھانی پڑی۔     اتوار کے مچ کے بعد ایک ویڈیو کلپ نظروں سے گزری جس میں پاکستان ٹیم کے کپتان تمام کھلاڑیوں کو  فتح پر شاباشی دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ...

Defence Day

Image
6th Sepember 1965 یہ بندے مٹی کے بندے دروازے پر کیوں کھڑی ہو بہو؟ دروازے سے گلی میں جھانکتی وہ مایوس آنکھوں سے دروازہ بند کر کے پلٹی اور بوجھل قدموں سے  چلتی ساس کے پاس آٸ اور دکھی آواز میں کہا کہ  فون پر کہا تھا کہ مہینے کے آخر کے ایام میں چُھٹّی پر آٶں گا اب تو اگلا مہینہ بھی ختم ہونے کو ہے لیکن وہ نہ آۓ۔ بوڑھی عورت بے اختیار ہنس پڑی اور بہو کو ہاتھ پکڑ کر پاس پڑے تخت پر بٹھا کر اس کے پاس بیٹھ گٸ اور بولی جھلیے تو کیا سمجھتی ہے کہ یہ سرحدوں کے محافظ گھروں سے میلوں دور اکیلے ڈیوٹی کرتے ہیں؟  نہیں بلکہ ان کے ساتھ ان کے پیچھے  اپنی ممتا کا گلا گھونٹتی ماں ، بوڑھا باپ ، جواں بیوی، معصوم بچے اور جان نچھاور کرتے بہن بھاٸ بھی ڈیوٹی دیتے ہیں ان سے جداٸ کی ڈیوٹی۔ جب یہ سارے اپنی ڈیوٹی کامیابی سے انجام دیتے ہیں نا تب جا کر سرحد پہ کھڑا ، چھاٶنی میں بیٹھا ، دفتر کی کرسی پہ بیٹھا یا سمندر کی تہوں میں سفر کرتا یاں ہواٶں کو چیرتا جہاز اڑاتا فوجی اپنی ڈیوٹی بہ خیر و خوبی سر انجام دیتا ہے۔ وہ اکیلا  نہیں سرحد پہ اپنی جان ہتھیلی پہ لیے  کھڑا ہوتا بلکہ اس کے پیچھے اس کا پو...

ہم کہاں جارہے ہیں؟؟؟

Image
ہم کہاں جا رہے ہیں؟ یہ بات درست ہے کہ ہرانسان ہر فن مولا نہیں ہوتا۔  مختلف پیشے سے جڑے افراد اپنی اپنی فیلڈ میں مہارت رکھتے ہیں۔ لیکن کچھ شعبے  ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں کام کرنے کے لیے آپ کو مختلف فیلڈز سے متعلق   basic knowledge   رکھنی پڑتی ہے ۔ اور یہ آپ کو اپنی جاب میں ماہر بناتی ہے۔ آج کے ٹی وی شوز ، مارننگ شوز اور ٹاک شوز پر بات کریں تو یہ پہلے سےکافی مختلف ہو چکے ہیں لیکن یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ یہ  دیکھنے والوں کی ترجیحات کے مطابق تیار کیے جارہے ہیں۔  بلخصوص مارننگ شوز کی بات کریں تو ان میں  اوٹ پٹانگ گیمز ، ہنسی مذاق ، مختلف قسم کی کچھ عجیب کچھ منفرد ایکٹیویٹیز پر مبنی ہوتے ہیں۔  عوام کی پسند کے مطابق 👀 اب ہماری عوام کی تجیحات یہ ہیں تو کیا کہہ سکتے ہیں؟  کچھ دن پہلے  ایسی ہی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر واٸرل ہوٸ ہے ، جو کہ ندا یاسر کے 4 سال پرانے شو کی ایک کلپ ہے۔   NUST University جس میں  Achivement  کے طلبہ کی    دکھاٸ گٸ جنہوں نے  Electric racing car  بناٸ تھی۔   ...

نہ پوچھیے کہ کیا حسین ہیں

Image
نہ پوچھیے کہ کیا حسین ہیں               ھُمَا رَیحَانَتَايَ مِنَ الدُّنیَا ۔  حسن و حسین دنیا کے گلشن میں میرے دو خوشبودار پھول ہیں۔ (بخاری) اس حدیث ِ مبارکہ سے ان دو شہزادوں کی عظمت، توقیر مقام و مرتبہ اور بڑاٸ کااندازہ لگاٸیے ۔  ایک اور حدیثِ مبارکہ میں آپﷺ نے فرمایا کہ حسن و حسین جنّت کے جوانوں کے سردار ہیں جو ان سے محبت کرے گا اس نے مجھ سے محبت کی اور جو ان سے بغض رکھے گا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ یہاں سے اندازہ لگاٸے کہ ان شہزادوں کی محبت اگر درمیان سے ہم نے نکال دی تو کیا رہ جاۓ گا؟  کچھ بھی نہیں۔ ان احادیث سے ان حضرات کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ ان سے محبت رکھنا ہر کلمہ گو مسلمان پر لازم ہے  بےشک۔ اب بات کرتے ہیں واقعہ کربلا کی میدانِ کربلا میں نواسہِ رسول ﷺ جگر گوشہِ بتولؓ کی ان بے دریغ قربانیوں  کا مقصد کیا تھا؟  آپ کے لیے قتعاََ نہ ممکن تو نہ تھا خود کو اور اپنے تمام گھرانے کی زندگیاں محفوظ کرنا۔  لیکن آپ نے ان مشکلات کا سامنا کیوں کر کیا؟  ناموسِ دینِ محمدیﷺ کی بقا کے لیے۔ اپنی جان دینے کو چنا لیکن...

احتیاط لازم ہے۔۔!!

Image
  یہ زمین مقدس ہے          ماں کے پیار کی صورت پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے  یہ جملہ ہم حکمرانوں کی زباں سے عرصہِ دراز سے سنتے آرہے ہیں۔ لیکن اب پچھلے دو سال سے کورونا سے گزرتے حالات ہم سب کے سامنے ہیں  اس حساب سے مشکل دور تو واقعی ہے۔ کون کب بیمار پڑ جاۓ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ جو بچا ہوا ہے سو غنیمت ہے۔ دو سال میں ہم کو اس بات کا اندازہ تو ہوگیا ہے کہ اب اس ہی صورتِ حال میں زندگی گزارنی ہے۔اب یہ ہم سب کے ہاتھ میں ہےکہ ہم اس کی صورت سنبھالتے ہیں یاں مذید  بگاڑتے ہیں۔ غیر ضروری رش والی جگہوں پر جانا ماسک کا استعمال  نہ کرنا۔ مارکیٹس میں زیادہ اوقات صرف کرنا۔ تفریحی مقامات پر حد سے زیادہ آنا جانا۔ ہجوم قاٸم کرنے کی وجہ بننا۔ اگر حکومت بازار اور تفریحی مقامات کھول رہی ہے تو کیا ضروری ہے کہ ہم ان مقامات پر  زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں؟  جو کام ایک انسان کے جانے سے ہو سکتا ہے وہاں  6 افراد مل کر کیوں جاٸیں؟ جیسے جو  گھر کا سامان  یاں سودا سلف ایک یاں دو افراد بھی لا سکتے ہیں تو پورا گھرانہ کیوں  اسٹورز میں پہنچ کر...

UNSC اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کااجلاس

Image
بالآخر اسراٸیل نے  اس بار فلسطینیوں کے ہاتھوں لگی پھینٹی سے  تنگ آ کر جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ الحمدللہ فلسطین کے پندرہ ہزار حماسی نوجوانوں نے چھ لاکھ اسراٸیلی ملعون فوج کو ان کی بربریت کا بہ خوبی جواب دیا۔ ۔ کل٢٠ مٸ ٢٠٢١ کو   UNSC  کی جانب سے منعقد اجلاس میں دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ ترکی فلسطین اور پاکستان کے سفیر بھی شریک تھے اور یہ افراد انقرہ  پر اکھٹے ہوۓ اور پھر ایک ساتھ ہی روانہ ہوۓ۔    ترکی  کے سفیر ایک طرف پاکستانی سفیر اور درمیان میں فلسطینی سفیر براجمان تھے جیسے  کہ دنیا کو یہ پیغام دے رھے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ  کھڑے رہیں گے۔ ایجنڈا نمبر ٣٧ اور ٣٨  پر یہ میٹنگ منعقد گٸ تھی۔  دوسرے ایجنڈے میں کھل کر فلسطین کی صورتِ حال پر سوال اٹھایا گیا۔ اجلاس میں فلسطین کی موجودہ تشویش ناک صورتِ حال پر بات کی گٸ۔ اقوامِ متحدہ کے عہدےداران, سیکٹری جنرل اور یو این اسمبلی کے صدر (جو ترکش ڈپلومیٹ بھی ہیں) نے بھی کھل کر اسراٸیل کا غلیظ چہرہ  ایکسپوز کیا۔   اسراٸیل کا ذکر  قابض پاور جیسے کھرے الفاظ میں کیا اور تو او...

Chicken high rates

Image
چکن مافیا چکن کے ہوشربا ریٹس نے عوام کو پچھلے کچھ مہینوں سے سخت مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ رمضان بھی مکمل ہوا۔ عید بھی اختتام کو پہنچی۔ اب تو  ہمارے پاس کوٸ جواز نہیں اگر ہم سب مل کر  کچھ دن چکن خریدنے کا مکمل باٸیکاٹ کردیں یقین جانیں یہ لوگ ریٹ کم کرنے پر مجبور ہوجاٸیں گے زیادہ سے زیادہ چار یاں پانچ دن اس شدید  گرمی میں نہ تو یہ چکن اسٹور کر سکیں گے  نہ ہی اپنے پاس لمبا عرصہ چکن پڑے رہنے دیں گے اور یہ ظالم مافیا خود مناسب ریٹ پر چکن بیچنے پر مجبور ہوجاۓ گی۔ ضرورت ہے تو مستقل مزاجی کی اور تھوڑی ہمت کی۔ اس مافیا کے خلاف ڈٹ کرکھڑے ہوجاٸیں۔ اس ایشو پر جب ہماری کوٸی مدد نہیں کررہا تو کیوں نہ ہم اپنی مدد آپ کریں۔ جو مہنگے ریٹ پر افورڈ کرسکتے ہیں یہ قربانی ان کو بھی دینی ہوگی  ان افراد کے لیے جو مہنگے داموں نہیں خرید سکتے آج ہم مل کر اس مسٸلے کے حل کے لیے اکھٹے ہوتے ہیں تو کل کو ہوسکتا ہے کہ ہمارے دیگر مساٸل کا حل بھی کسی نہ کسی طرح نکلے کیوں کہ ہم نے اسی ملک میں رہنا ہے۔ ہمارے پاس یہ واحد آپشن ہے۔ خدارا اس پر سوچیے۔ میری جانب سے  اس کوشش کا آغاز ہوتا ہے کیا آپ لوگ بھ...