Posts

اچھرہ مارکیٹ واقعہ Ichra Market incident

Image
ہر گزرتے دن حالات و واقعات دیکھ کر لگتا ہے کہ  ہمارے ملک کا معاشرہ کہاں کھڑا ہے؟ جیسے یہاں ایک دوسرے پر جینا ہم تنگ سا کرتے جا رہے ہیں۔  جیسے ایک دوسرے کو اپنی سوچ و فکر کے لحاظ سے قید کرنا چاہتے ہیں۔ میرا خیال درست میرا طریقہ صحیح میری ہی فکر برحق  اِس سب میں شخصی آزادی کہاں گٸ؟ کل ٢٥ فروری دوپہر کے وقت لاہور اچھرہ مارکیٹ میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے کہ بازار میں ایک خاتون  جو لباس زیب تن کی ہوٸی  تھیں اس میں عربی الفاظ کندہ تھے۔ لوگوں نے یہ منظر دیکھ کر عورت پر شور مچانا شروع کردیا کہ یہ قرآنی آیات ہیں اور یہ ہمارے دین کی توہین ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔ اس عورت کو پکڑ کر نشانِ عبرت بنانے کے لیےایک مجمع لگ چکا ہوتا ہے۔ مختلف ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون  عوام کے نعروں سے شدید خوف زدہ تھیں۔ گستاخ گستاخ کے نعروں سے علاقہ گونج رہا تھا۔  آناًفاناً پولیس وہاں پہنچی۔ مارکیٹ کے کچھ افراد، دکان دار  اور  مقامی مسجد کے امام صاحب نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوٸے عورت کو عوام  سے بچانے کے لیے دکان کا شٹر گراٸے رکھا ۔ اور پولیس ...

Elecions Pakistan 2024

Image
الٹی ہوگٸیں سب تدبیریں 👎👎👎 ہم سب نے دیکھا کہ الیکشن سے پہلے کس کس طرح سے تحریکِ انصاف کانام و نشان مٹانے کی کوششیں کی گٸیں۔  پہلے پہل تو تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کرواٸے جانے پر مختلف اعتراضات اٹھاٸے جاتے  رہے۔  اپنی ہار کے خوف سے الیکشن ہونے نہ دیے جا رہے تھے۔ اور جب الیکشن  منعقد کردیۓ تو دھاندھلی کے نٸے طریقے دیکھنے کو ملے۔  تحریکِ انصاف کو مٹانے کے لیے  اس کو توڑ کر مذید ٣ پارٹیاں بناٸی گٸیں۔ پارٹی کے ارکان کے ساتھ  ظلم وزیادتی کی ہر حد کو پار کیا گیا نہ صرف پارٹی ورکرز بلکہ ان کے اہل خانہ کو, کاروبار, گھر جاٸیداد, املاک کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ناجاٸز  اور بے بنیاد کیسوں میں آج بھی تحریکِ انصاف کے کتنے افراد جیلوں میں قید پیشیاں بُھگتا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خواتین کو بھی مختلف جھوٹے مقدمات  میں قید کیا گیا۔ الیکشن سے پہلے تمام پی ڈی ایم کو  لیول پلیٸنگ فیلڈ سیٹ کر کے دی گٸی تاکہ انہیں جیت لازمی ملے۔ 😎 لیکن عوام  کے فیصلے نے  ان سب کے چھکے چھڑا دیے۔ الیکشن سے ٹھیک دو ہفتہ پہلے  پی ٹی آٸی کے انٹرا پارٹی...

سردی سے بچاٶ

Image
یہ آرٹیکل ان ماٶں کے لیے مفید ہے جن کے بچے پیداٸش سے لے کر ایک سال کےدرمیان ہیں۔ کراچی والوں کو موسمِ سرماں کا  شدت سے انتظار رہتا ہے کیونکہ ایک طویل عرصہ یہاں گرمی ڈیرہ ڈالے رکھتی ہے۔لہذا کراچی والے سردیوں کی آمد کا شدت سے انتظار اورخوب اہتمام کرتے ہیں۔ جہاں لوگ سردیاں انجواٸےکر رہے ہوتے ہیں موسم کی مناسبت کے پکوان  سےلطف اندوز ہوتے ہوۓ اور سردیوں کے گرم  پہناوے پہن کر وہیں ماٶں کی فکر یہ ہوتی ہے کہ سردی سے اپنے چھوٹے بچوں کو کیسے بچایا جاٸے۔ بڑھتی سردی میں چھوٹے  بچوں کا خاص خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ خاص طور پر وہ بچے کہ جن کی یہ دنیا میں آنے کے بعد  پہلی سردی ہے۔ نزلےکھانسی کی وجوہات میں کراچی کی گردو غبار آلود  آب و ہوا ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ لہذا سردیوں کے موسم میں نزلے کھانسی طبعیت پر زیادہ اثر انداز  ہوتے ہیں۔ سردیاں چھوٹے بچوں اور بزرگ افراد کے لیے اکثر مشکل کا باعث بن سکتی ہیں آپ کی زرا سی  احتیاطی تدابیر آپ کو اور آپ کے بچوں کو  ان مشکلات سے بچا سکتی ہے۔  چھوٹے بچوں کی قوّتِ مدافیت  وقت کےساتھ ساتھ مضبوط ہوتی ہے۔ جس وجہ سے شی...

٢٠٢٣ ایک جھلک میں

Image
یہ سال بھی یاد رہے گا اُن معصوم بچوں کے لیے جو بنا کسی قصور کے موت کی گھاٹ اُتارے گۓ۔ یہ سال  بھی غزہ پر اسراٸیل کی جانب سے ہونے والے ظلم و بربریت کی وجہ سے فراموش  نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جاٸے گا۔ کس بیہمانہ طریقے سے فلسطینیوں  کی نسل کشی کی جا رہی   ہے اس بنا ٕ پر  اس سال امت مسلمہ گہرے رنج اور غم و غصہ میں مبتلا رہی۔ اسراٸیلی فوج کی جانب سے فلسطینوں کی نسل کشی کیے جانے پر جہاں دنیا بھر میں  امتِ مسلمہ سراپا احتجاج رہی وہیں بااختیار حکام کی بے حسی بھی ناقابلِ فراموش تھی۔ کس طرح سے فلسطینوں پر ڈھاٸے جانے والے مظالم پر خاموش بُت بنے  رہے بلکہ بے حسی کی انتہا تو دیکھیے کہ شہزادوں کی شادی مناٸی جاتی رہیں۔  فلسطینیوں کی جانب سے اپنےدفاع کی بھرپور کوششیں جاری رہیں لیکن  وہ اپنے دفاع میں اپنی املاک اپنے لواحقین اپنےپیاروں کی جانیں بچانے سے قاصر ہے. غزہ کے ایک ایک اسکول ،  ہسپتال اور دیگر عمارتوں کو ہدف بنا کر مسمار کیا گیا۔ ہسپتال کے نرسریوں میں آکسیجن گیس کی عدم فراہمی کے باعث ایک ہی ساتھ درجنوں بچے جان ک...
Image
جنِہوں نے ملک کو لوٹا ,نوچا ,  کھسوٹا , بیچا, کھایا انُھیں عیاشی کی ہر اجازت ہے یعنی ایک بار اقتدار میں آٶ ملک کو لوٹو کھاٶ اپنے بینک اکاٶنٹس بھرو اور شان سے آٶ اور پھر دوبار ہم پر مسلط ہوجاٶ ۔ نہ کسی قانون کے آگے جواب دہ نہ ہی کوٸی شرمندگی۔ اور جس نے ملک کے مفاد کی بات کی۔ اپنی ذات اپنی فیملی اپنی ترجیحات کو پسِ پشت رکھ کر ملک کے فاٸدے کی لیے کام کیے اُس کو جیل میں ڈال دیا؟ کیا اس ملک میں کبھی انصاف کا قانون آٸے گا؟ یاں  ہماری طرح ہماری نسلیں بھی اس ہی گندے نظام کی بھینٹ چڑھیں گی؟ کیا عوام کے فیصلے کی کوٸی حیثیت نہیں ہوگی؟ یہ آزماٸے ہوٸے کرپٹ سیاست دان ہی ہمیشہ ہمارا مقدر رہے گا؟ ابھی یہ ہیں ان کے بعد ان کی نکمی اولاد ہوگی۔ کیا ہمارا ملک کبھی ان چوروں سے رہاٸی پاٸے گا یاں نہیں؟ کیا اس ملک کا نظام کسی ایماندار کو چلانے کی اجازت نہیں ملے گی؟ اگر تو الیکشن ہونے دیے جاتے ہیں تو یہ آخری کوشش ہمیں کرنی ہوگی۔ انصاف کا ساتھ دے کر یہ بلاوجہ کی دھونس اور بدمعاشی کو ہمیں ہر حال میں ہرانا ہوگا ہمیں ہر صورت خان کو جتوانا ہوگا۔ اس ملک کو سچے ایماندار حاکم کی ضرورت ہے اسراٸیل امریکہ اور انڈ...

عمر ِ فاروقؓ یکم محرم الحرام

Image
خلیفہِ دوم فاتحِ روم و ایران مرادِ رسول ﷺ مشیرِ ابو بکرؓ دامادِ علیؓ ؓسیدنا عمرِ فاروق تمام اصحاب ؓ مریدِ مصطفی ﷺ ہیں، اُن میں سے اگر کوٸی مرادِ مصطفی ﷺ ہے تو اُنھیں  سیدنا عمرِ فاروق ؓ کہتے ہیں۔   جو  خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد فرماتے تھے کہ اگر میری جو بات بھی  قابلِ اعتراض لگے تو مجھے اُس پر ٹوک دیا جاۓ۔ دلیری اور ہمت کا عالم دیکھیٸے۔  سبحان الله اور آج والے فرماتے ہیں کہ ہم سےحساب نہ مانگنا  کوٸی کون ہوتا ہے بھلا ہم سے کھربوں کی جاٸیداد اور بینک اکاٶنٹس کا حساب مانگنےوالا ۔ 😒  آج ملک کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایسے میں عمرِ فارق ؓ بہت یاد آتے ہیں 😥 وہ جو اپنے دورِ حکومت میں ایک جانور کے پیاسے مرجانے کی  فکر رکھتے تھے کہ اِس کا بھی اللہ مجھ سے سوال  کرے گا۔ اور آج ہمارے حکمران ہیں کہ جناب یہاں انسان خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں لیکن  اُن کو فکر نہیں۔  بھوک افلاس فاقہ کشی میں عوام گِھری ہے۔ کوٸی پوچھنے والا نہیں ۔ وطن میں غربت کا حال کہاں سے کہاں پہنچ چُکا ہے۔ اُن کا دور تھا تو خوشحالی کا یہ عالم تھا کہ دینےو...

ڈیجٹل کانٹینٹ اور ہماری ڈرامہ انڈسٹری

Image
ہمارا معاشرہ آج نفسا نفسی کا شکار ہے۔ ہر جگہ پھیلی بے راہ روی ہمارے معاشرے کی ایک تلخ سچاٸی ہے ایسے میں ڈیجیٹل کاٹینٹ دیکھنےوالوں پر اپنا خاص اثر رکھتا ہے۔ یوتھ  میں جیسے سوشل میڈیا کا ایک اہم رول ہے ایسے ہی ہماری نوجوان نسل  ٹی وی تھیٹر ، سینما کی بھی شیداٸی ہے ۔ کیا ان میں  دکھاے جانےوالا کانٹینٹ کا چُناٶ کرنے میں احتیاط کی ضروت نہیں ہونی چاہیے؟ ہمارے ہاں  عوام کو کس قسم کے ڈرامے  دکھا رہے ہیں ؟  ان کا ماٸنٹ سیٹ کررہے ہیں۔ڈرامے میں دیا جانے والا  بڑا سبق اتنا اثر نہیں چھوڑتا جتنا اکثر اوقات ایک چھوٹا منظر لاکھوں نوجوانوں بالخصوص کم عمر کچی ذہن کے ناظرین کے ذہنوں پر اثر انداز ہوجاتا ہے۔ آپ مستقل ایک ہی چیز  عام عوام کو دکھاٸیں گے  تو نوجوان نسل اس ہی ذاویے سے  اُس پہلو پر سوچے گی۔ آپ صرف ساس، بہو ، سسرال کے منفی رول دکھاتے رہیں گے تو  دیکھنے والے اپنی سوچ میں یہ منفی مزاج شامل کرلیں گے   کہ جی سسرال صرف بُری ہی ہوتی ہے اور ساس سسر نند دیور صرف منفی  قسم کے ہی افراد ہوتے ہیں۔ ایسےتو نوجوان لڑکیاں یہ منفی سوچ لےکر ان ر...