” موجودہ دور کے تقاضے“
آج دنیا میں پیچھے ہونے کی بہت بڑی وجہ ہم میں اخلاقی
اقدار کی کمی ہے, اپنے علاوہ کسی کو برداشت نہ کرنے کی ضد قوموں کو رسوا
کرتی ہیں , دوسروں کے اختلافات کو برداشت نہ کرنا قومیت اور مذہب کی بنیاد
بنا کر تفریق رکھنا کیا یہ ایک اچھی قوم کی نشانی ہے ؟
ہم میں اگر کوئ آپس کے اختلاف ہٹا کر ایک ہونے کی بات کرتا ہے تو ہم کیوں اسے گالیوں سےنوازتے ہیں۔
دنیا
میں اپنا کھویا ھوا مقام واپس حاصل کرنے کے لیۓ مسلمانوں کو نہ جانے کتنا
عرصہ درکار ھوگا یہ تو رب العزت ہی جانتا ہے لیکن اس سفر میں کوششیں
کیا,کیسے اورکتنی ہیں یہ سوچنا اور کرنا ہمارا کام ہے۔
منگول مسلم تاریخ سے ہم بہ خوبی واقف ہیں۔
سن ١٢٠٠ عیسوی کےآس پاس کے وقت سلطان جلال الدین خوارزم نے اپنے دربار میں منگول سلطنت کا سفیر مروایا ۔
اللہ
رسول کے حکم کےخلاف اس اقدام کا بھاری نقصان مسلمانوں کے حصے میں آیا۔
بلکہ١٠٠ , ١٥٠سال یہ سلسہ جاری رہا۔
منگولیا
سے لے کر یورپ کے بارڈر تک شام ترکی اردن , صرف ہار مقدر رہی۔
کہنے کا مقصد یہ کہ اس وقت مسلمانوں کا ایک غلط سیاسی فیصلہ ہی ان کے گلے پڑ گیا۔
منگولوں نے جو لڑائی انتقامن شروع کی وہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بدتر ین صورت اختیار کرتی گئ ۔
اس وقت کے امام نے تاریخی الفاظ کہے
”یہ خدا کی آندھی ہے یہاں بولنے کا مقام نہیں“
تاریخ سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ منگول دور میں مسلمانوں کو ایک بڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دور میں سیاسی غلط فیصلوں کی وجہ سے پوری امت کو طویل عرصے تک مشکلات کا سامنا رہا۔ اور اپنے کئ میل علاقوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔
اس وقت کے مسلم حکمران ہوش کے ناخن لیتے
خطرے سے نمٹنے کی کوئی تیاری اور دفاعی سامان اوراپنے گھوڑے تیار رکھتے تو مسلمانوں کو یہ ہولناک
مناظر نہ دیکھنے پڑتے۔ مسلمِ علماء ,فضلاء ,حکماءکوٸ بھی اس کوتاہی سے بری
الزمہ قرار ہرگز نہیں دیا جاۓگا کیوں کہ انہوں نے مسلمانوں کو فروعی
معاملات میں الجھا کر اپنے بچاؤ کے بندوبست جیسے اہم کام کی ترغیب نہیں دی اور آپسی
معاملات میں الجھاۓ رکھا ۔ جو قوم آپس میں ہی متحد نہیں ہوگی وہ اپنے اوپر آئی مصیبت کامقابلہ خاک کرے گی؟
جب سر پر منگول آپڑے تب ہر ممکن مسلمان لڑے لیکن بنا تیاری اور لائحہ عمل کے
بے انتہا نقصان بھگتا۔ ڈیڑھ سو سال بھگتا۔
”وہ کہتے ہیں نہ کہ لمحوں نے خطا کی ، صدیوں نے سزا پاٸ“
دوبارہ اٹھنے میں صدی لگ گٸ۔
لڑ کر دیکھ لیا کیا حاصل ہوا؟ نقصان کے علاوہ کچھ بھی نہیں.
اب
آپ زرا سوچیں کہ یہ لڑائی جتنا طول پکڑتی اتنا ہی نقصان کرواتی۔ مصر کے مقام تک منگولوں نے رساٸ حاصل کرلی تھی اگلا حدف اس سے
مزید آگے ہوتا۔
جب مقابلہ برابری سے نہ ہو سکے تب
حکمت عملی بدلنی پڑتی ہے یہ سمجھداری کہلاتی ہے۔ ان منگولوں کے ساتھ اللہ والوں نے حکمت سے کام لیا ان پر دین اسلام کے سچے
پیغام کی تبلیغ کی آگے چل کر ان ہی ترکوں نے پوری دنیا میں اسلام کا پرچم لہرایا سات برِاعظم تک رساٸ حاصل کی۔
اتحاد کی
مثال کا اس بات سے اندازہ لگاٸیے کہ یہ جنہوں نے سلطنت کی
سلطنتیں تہس نہس کردیں جب انکا اپنا آپسی اتحاد بٹا تو ان کا زوال شروع
ہوا اور
١٠٠ , ١٥٠ سال بعد انکا کھیل ختم ہوا یہ
وحشی منگول ,صوفیانِ کرام اولیا ٕ اللہ کے ہاتھوں مسلمان ہوۓ اور
ان واقعات پر کتابوں کی کتابیں مصنفین نے لکھی ہیں ۔
جو
ڈیڑھ سو سال آپکی تباہی اور بربادی کا باعث بنے, ان سے ہی اپنی ترقی کا
کام لے کر اپنی طاقت بنایا اب آپ یہ سوچیں کہ آپس میں لڑ جھگڑ کر یہ کام
کیا جا سکتا ہے؟ اس مقصد کو پانے کے لیے کتنی جدوجہد درکار ہے۔ کہنے کا
مقصد یہ ہےکہ تاریخ کی غلطیاں دوہرانےسے کچھ حاصل نہیں ھوگا خدار١ وقتی
تقاضوں کو سمجھیں ,جو حکمتِ عملی تیار کی جارہی ہے اس پر تنقید کرنے سے
پہلے اس کے بعد کے نتائج کےبارے میں غور کریں۔
وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا
وقت پلٹے گا انشاءاللہ مایوسی کے بادل بھی چھٹیں گے اچھاوقت بھی آۓ گا یہ قوم اپنا کھویاہوامقام ضرور واپس حاصل کرے گی
انشاءاللہ اور یہ سب تب آسان ہوگاجب ہم متحد ہونگے
انشاءاللہ


Comments
Post a Comment