وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - حضور ﷺ کی شان اور سیرت نبوی کا پیغام
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - اور ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا۔
(سورۃ الشرح)
اللہ رب العزت نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دنیا میں رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ - اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
جن کا ذکر خود اللہ تعالیٰ آسمانوں پر فرشتوں میں کرتا ہو، ان کی شان سب سے بلند ہے۔ ہمارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان، اپنے مال، اپنے والدین اور اپنی اولاد سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔
سیرتِ نبوی ﷺ کیا سکھاتی ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی۔ آپ نے دشمنوں کے لیے بھی دعا فرمائی۔ آپ کی زندگی صبر، شکر، معافی اور محبت کا بہترین نمونہ ہے۔
آج کے دور میں عشقِ رسول کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی عملی زندگی میں لائیں۔
ہم عشقِ رسول کا عملی ثبوت کیسے دیں؟
1.
سیرت کا مطالعہ: ہمیں چاہیے کہ ہم روزانہ سیرت النبی ﷺ کی کوئی کتاب پڑھیں اور اپنے بچوں کو بھی آپ ﷺ کے
اخلاق کے بارے میں بتائیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اتنی بلند ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کا ذکر اذان میں اپنے نام کے ساتھ شامل کر دیا۔ کلمہ طیبہ میں، نماز میں ، اور قبر میں بھی آپ کی نسبت سے سوال ہوگا۔ جس ہستی کا ذکر اللہ اتنا بلند کر دے، دنیا کی کوئی طاقت اس کو کم نہیں کر سکتی۔ آج بھی دنیا کے کونے کونے میں آپ ﷺ کا نام محبت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔
آپ ﷺ کی سیرت کا ایک اور اہم پہلو آپ کا حسن معاملہ تھا۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی غریب کو حقیر نہیں جانا، کبھی کسی یتیم کا دل نہیں توڑا۔ آپ ﷺ بچوں سے بے پناہ محبت فرماتے اور بڑوں کا احترام سکھاتے۔ آپ نے فرمایا کہ جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جو آج ہمارے معاشرے میں امن اور بھائی چارہ قائم کر سکتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بہتر ہو تو ہمیں آپ ﷺ کی سیرت کو اپنے گھروں میں نافذ کرنا ہوگا۔
2.
سنتوں پر عمل: آپ ﷺ کے کھانے پینے، سونے جاگنے اور لوگوں سے ملنے کا انداز اپنائیں۔ یہی سچی محبت ہے۔
3.
درود شریف کی کثرت: جمعہ کے دن اور روزانہ کثرت سے درود پاک پڑھنا دل کو سکون دیتا ہے اور یہ محبت کی علامت ہے۔
4.
اچھے اخلاق: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ ہمیں اپنے کردار سے دنیا کو بتانا ہے کہ اسلام امن اور محبت کا دین ہے۔
5.
دعوت اور تبلیغ: دنیا کو نبی ﷺ کی تعلیمات کے بارے میں پیار اور حکمت سے بتائیں۔ آپ ﷺ کی رحمت اور شفقت کا پیغام ہر دل تک پہنچائیں۔
آخر میں، ہمیں سوچنا چاہیے کہ روزِ محشر جب ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ہم نے امت کے لیے کیا کیا؟ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم آج سے ہی اپنی زندگی کو سیرتِ نبوی کے مطابق ڈھال لیں۔ یہی ہماری دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت اور آپ کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔


Comments
Post a Comment