2020 ایک ایسا سال جسے دنیا کبھی نہیں بھولے گی - کورونا کی کہانی

 


2020 ایک ایسا سال جسے دنیا کبھی نہیں بھولے گی


شاید ہی کوئی ذی روح ایسا ہو کہ جو 2020 کو بھلا سکے گا۔ یہ وہ سال تھا جس نے پوری انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا۔ صدیوں بعد ایسا سال آیا جس نے امیر اور غریب، بادشاہ اور فقیر سب کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا۔ تاریخ میں بہت سے سال آئے اور گئے لیکن 2020 جیسا سال شاید ہی کبھی آیا ہو۔


تڑپتی بلکتی انسانیت اور سنسان سڑکیں

2020 

کا آغاز ہی ایک خوف کے ساتھ ہوا۔ وہ سڑکیں جو کبھی گاڑیوں سے بھری رہتی تھیں، وہ بازار جو رات گئے تک آباد رہتے تھے، اچانک سنسان ہو گئے۔ دل دہلاتے سناٹے ہر طرف پھیل گئے۔ انسان انسان سے ڈرنے لگا۔ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا، گلے ملنا جیسے جرم بن گیا۔ ماسک اور سینیٹائزر ہماری زندگی کا حصہ بن گئے۔ ائیرپورٹ بند، ٹرینیں بند، بس ایسا لگا جیسے دنیا تھم گئی ہو۔ جو لوگ کبھی ایک لمحہ گھر نہیں بیٹھتے تھے وہ مہینوں گھروں میں قید ہو گئے۔


بھوک، افلاس اور بیروزگاری کا طوفان


کہیں بھوک و افلاس کا شکار گھرانے، خالی باورچی خانے، بیروزگار باپ، کہیں بھائی کہیں شوہر۔ کاروبار بند، دفاتر بند، شٹر گری دکانیں۔ یہ وہ منظر تھا جو ہر گلی میں نظر آتا تھا۔ دیہاڑی دار مزدور کے گھر میں فاقے پڑ گئے۔ کتنے ہی گھروں کے چولہے بجھ گئے۔ لوگوں نے اپنی جمع پونجی ختم ہوتے دیکھی۔ یہ سال صرف بیماری نہیں بلکہ غربت اور بے بسی بھی ساتھ لایا تھا۔ بڑے بڑے کارخانوں میں تالے لگ گئے اور لاکھوں لوگ ایک ہی رات میں بیروزگار ہو گئے۔


آسمان کو تکتی آنکھیں اور رب سے معافی


آسمان کو حسرت سے تکتی آنکھیں، کہ مولا بس، اور نہیں سہا جاتا، اب تو معاف کر دے، اپنے بندوں کو بخش دے اور راضی ہو جا۔ مسجدیں ویران ہو گئیں، خانہ کعبہ کا طواف رک گیا، جو کبھی تاریخ میں نہیں ہوا تھا۔ انسان بے بس ہو کر اپنے رب کی طرف لوٹا۔ اس سال نے ہمیں بتایا کہ ہم کتنے کمزور ہیں اور ہمارا رب کتنا طاقتور ہے۔ ایک چھوٹے سے وائرس نے سپر پاور ممالک کو گھٹنوں پر لا دیا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے تمام دعوے اس وائرس کے سامنے فیل ہو گئے۔


کورونا کا وبال اور قدرتی آفات


دنیا یاد رکھے گی اس خونی سال کو جس نے لاکھوں جانیں نگل لیں۔ کورونا کا وبال، کبھی طوفان اٹھاتی بارشیں لوگوں کا کروڑوں بہا لے گئیں۔ نت نئی آفات میں گھرا یہ سال 2020 اختتام پذیر ہوا۔ کہیں ٹڈی دل کا حملہ، کہیں زلزلے، کہیں آگ نے جنگلات کو جلا دیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے قدرت انسان سے ناراض ہو گئی ہو۔ ہر روز اموات کی خبریں اور ہسپتالوں میں جگہ کا نہ ہونا، یہ سب مناظر دل دہلا دینے والے تھے۔


2020 کیا سکھا گیا اور ہماری ذمہ داری


جاتے جاتے بہت کچھ لے گیا، لوگوں کے لیے کئی یادیں چھوڑ گیا۔ یہ سال ہمیں بہت کچھ سکھا بھی گیا۔ اس نے ہمیں رشتوں کی قدر سکھائی، صحت کی اہمیت بتائی، پیسے سے زیادہ انسانیت کا درس دیا۔ اس نے سکھایا کہ ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس مشکل وقت میں دوسروں کی مدد کر کے انسانیت کی مثال قائم کی۔ اس سال نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ ہمیں اپنے رب کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

دعا ہے پروردگار سے کہ اس نئے آنے والے سال کو ہمارے لیے رحمتوں اور برکتوں والا بنائے اور آئندہ ایسا کڑا وقت کبھی نہ دکھائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

ظالم کا انجام - فرعون سے ہٹلر تک عبرت کی کہانیاں

May2025 کی صورتِ حال پر ایک نظر۔ امید کی کرن

عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو - خطبہ حجۃ الوداع کا بھولا ہوا پیغام