نادیہ خان اور شرمیلا فاروقی ویڈیو تنازعہ کی مکمل کہانی | FIA کا فیصلہ





تصویر بہ شکریہ نادیہ خان/ اسٹاگرام



پاکستانی شوبز انڈسٹری میں تنازعات نئی بات نہیں، لیکن جب یہ تنازعہ ایک ٹی وی میزبان اور ایک سیاسی شخصیت کے درمیان ہو تو معاملہ زیادہ توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ ایسا ہی ایک تنازعہ مشہور مارننگ شو میزبان نادیہ خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کے درمیان پیش آیا۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

کچھ عرصہ قبل ٹی وی اداکار علی انصاری اور صبور علی کی مہندی کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ اس تقریب میں پاکستانی اداکارہ اور مارننگ شو کی میزبان نادیہ خان نے بھی شرکت کی۔

نادیہ خان نے اپنے سیلفی کیمرے سے مہندی کے ایونٹ کی ویڈیو بنائی جس میں وہ تقریب میں شریک مختلف شخصیات سے گفتگو کر رہی تھیں۔ اس ہی ویڈیو میں ایک سے دو منٹ کا ایک کلپ شامل تھا جس میں نادیہ خان پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی کی والدہ انیسہ فاروقی کے میک اپ، ڈریسنگ اور جیولری کی تعریف کر رہی تھیں۔

بظاہر اس ویڈیو میں کوئی ایسا لفظ یا لہجہ استعمال نہیں کیا گیا تھا جسے ہتک آمیز کہا جا سکے۔

تنازعہ کا آغاز

بعد ازاں 13 جنوری کو اپلوڈ کی گئی اس ویڈیو پر شرمیلا فاروقی کی جانب سے اعتراض سامنے آیا۔ نادیہ خان کے مطابق شرمیلا فاروقی نے ان سے ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے اس ویڈیو پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

نادیہ خان کی جانب سے ایک وضاحتی ویڈیو بھی اپلوڈ کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ وہ کسی والدہ کی تذلیل کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف ایونٹ کی کوریج تھا۔

معاملہ FIA
 تک پہنچ گیا

20 جنوری کو شرمیلا فاروقی نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر سائبر کرائم میں رپورٹ درج کرا دی ہے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی کہ کیا پبلک ایونٹ میں ویڈیو بنانا جرم ہے؟

FIA
 :سائبر کرائم کا حتمی فیصلہ

 مارچ 2022 میں
 FIA
 سائبر کرائم کی جانب سے اس ویڈیو کا جائزہ لینے کے بعد کیس کو بند کر دیا گیا اور بتایا گیا کہ ویڈیو میں کوئی توہین آمیز مواد نہیں ملا۔

FIA
 کے اس فیصلے کے بعد یہ تنازعہ ختم ہو گیا، لیکن اس نے یہ سبق ضرور دیا کہ سوشل میڈیا کے دور میں پرائیویسی کا 
خیال رکھنا کتنا ضروری ہے۔


سوشل میڈیا پر عوام کا ردعمل:
اس تنازعے کے بعد ٹویٹر اور انسٹاگرام پر صارفین دو حصوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ ایک طبقے کا کہنا تھا کہ نادیہ خان ایک وی لاگر ہیں اور شادیوں میں ویڈیو بنانا ان کے کام کا حصہ ہے، اس لیے اسے غلط نہیں کہنا چاہیے۔ جبکہ دوسرے طبقے نے شرمیلا فاروقی کی حمایت کی اور کہا کہ کسی کی بھی والدہ کی ویڈیو بغیر اجازت کے اپلوڈ کرنا پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے۔ اس بحث نے یہ واضح کیا کہ پاکستان میں سائبر قوانین کے بارے میں ابھی بھی لوگوں میں آگاہی کم ہے۔

سبق کیا ملا؟

اس پورے واقعے سے شوبز سے وابستہ افراد اور یوٹیوبرز کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔ کسی بھی پبلک ایونٹ میں ویڈیو بناتے وقت، خاص طور پر خواتین اور بزرگوں کی ویڈیو بناتے وقت ان کی اجازت لینا بہت ضروری ہے۔ نادیہ خان نے بعد میں اپنی ویڈیو سے وہ کلپ ہٹا دیا تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی نیت غلط نہیں تھی۔ اس طرح کے معاملات کو عدالتوں میں لے جانے کے بجائے آپس میں بات چیت سے حل کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

ظالم کا انجام - فرعون سے ہٹلر تک عبرت کی کہانیاں

May2025 کی صورتِ حال پر ایک نظر۔ امید کی کرن

عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو - خطبہ حجۃ الوداع کا بھولا ہوا پیغام