10th October World Mental Health Day 2026 | ذہنی سکون اور ہمارا معاشرہ
دنیا بھر میں 10 اکتوبر2026 کو ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔اس سال کی تھیم بہت خاص ہے۔ "حقیقی آوازیں سنی جائیں، حقیقی تبدیلی آئے "۔ مطلب صرف دوسروں کے ہی بارے میں ڈسکس نہیں کرنا، بلکہ جن لوگوں کو ذہنی طور پر کوئی تکلیف یا پریشانی ہے ان کی آوز سن کر ان کے لیے آسانی پیدا کرنی ہے۔
ہماری سوسائٹی جس اخلاقی بحران سے دوچار ہے وہاں ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے بجائے ایک دوسرے کا جینا حرام کر کے جینے کا سلسلہ رائج ہے۔
انسان ایک دوسرے کے لیے زہنی پریشانی کا باعث ہے اور اپنے اس گھناؤنے فعل کو غلط سمجھتا بھی نہیں۔
دوسرں کی زندگیوں میں بے جا مداخلت۔
ایک دوسرے کے نجی معاملات میں دخل انداذی۔
ٹوہ لگائے رکھنا
اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔
Mental Health
Mental peace
کے بارے میں بہت بات ہوتی ہے۔
یقین جانیے کہ آج کے وقت میں امن, شانتی ,سکون,صرف جیو اور جینے دو کے اصول میں ہی چُھپا ہوا ہے۔
دنیا بھر میں دس اکتوبر کو مینٹل ہیلتھ ڈے
Mental Health Day
منا کر ذہنی مسائل کے بارے میں آگاہی فراہم کی جارہی ہے۔
بہ حیثیت مسلمان ہمارے کامل دین نے ہم پر ایک دوسرے کے ساتھ پیش آنے کے حوالے سے طریقہِ کار پر باریک بینی سے چودہ سو سال پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ روز مرہ کے دنیاوی معاملات کیسے ادا کرنے ہیں ۔
ایک دوسرے کے ساتھ کن اصولوں کے تحت رہنا ہے۔
اللہ تعالی نے حقوق اللہ میں معافی رکھی ہے لیکن حقوق العباد کے معاملے میں اللہ نے معافی کا اختیار اپنے بندے کو دیا ہےکہ جس کے ساتھ آپ نے کسی قسم کی زیادتی سر انجام دی ہے معافی کا تقاضہ بھی اس ہی سے کیا جائے گا۔
اس بات کے کہنے کا مقصد اس معاملے کی نزاکت کا اندازہ کروانا ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کتنا محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
ہمارا دین ہمیں سختی سے منع کرتا ہےکہ
دوسرے کے بارے میں تجسس میں نہ پڑو
کسی کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔
کسی کو نہ ستاؤ
کسی پر الزام یاں بہتان مت باندھو۔
کسی کی عیب جوئی مت کرو۔
کسی کی کردار کشی نہ کرو
ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مت پڑو
اگر کسی میں کوئی برائی دیکھ بھی لو تو اسے آگے مت پھیلاؤ۔
مگر ہمارے ہاں ہم دوسروں کے معاملے میں لاؤڈ اسپیکر کا کردار نبھاتے ہیں۔ اپنے لیے ہم یہ سب کبھی نہیں چاہیں گے۔
لیکن دوسرے کے ساتھ یہ معاملات بڑھ چڑھ کر کرنا چاہیں گے۔
دوسروں کی ٹوہ لگانا ہی تجسس ہے اور اس کے کئ اسباب ہیں۔
تجسس کا سب سے بنیادی سبب بغض و کینہ ہے۔ جب آپ کا دل کسی کے لیے بغض سے بھرا ہوگا تب آپ کو اُس کا ہر سیدھا کام بھی الٹا دکھائی دے گا اور یوں آپ کی نظر اُس انسان کے صرف اور صرف عیبوں پر ہی رہے گی۔
تجسس کی دوسری اہم وجہ حسد ہے۔ جس سے حسد کیا جائے حاسد کو کبھی بھی اُس شخص کی تعریف, خوبی , عزت افزائی یاں ترقی برداشت نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ہر اچھائی اور بھلائی اُس سے چھن جائے۔ کوئی اُسے اچھا نہ کہے۔
کسی دوسرے انسان کے بارے میں تجسس لگانا اور اُس کے مخفی عیب کھوجنا شرعاََ ممنوع ہے۔
تجسس کی ایک اہم وجہ دوسروں کی چاپلوسی کرنا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ کسی بڑے عہدے دار کی چاپلوس کرکے کچھ حاصل کرلے گا عزت یاں کوئی عہدہ اسلیے دوسروں کی چغلیاں لگا کر اپنے نمبر بڑھانے کی فکر میں ہلکان رہتا ہے۔
لیکن کسی سے کسی کی چغلیاں لگا کر چاپلوسی کے زریعے ملی عزت دیر پا نہیں ہوتی ایسی عزت ایک نہ ایک دن خاک میں مل جاتی ہے۔
المیہ یہ ہےکہ تانکاجھانکی کرنا , ٹوہ لگاکر رکھنا ان کو گناہ سمجھتے ہی نہیں حالانکہ یہ گناہ کے ساتھ ساتھ ذہنی بیماریاں بھی ہیں۔
کوئی انسان یہ پسند نہیں کرتا کہ اُس کی زندگی پر کوئی کیمرے کی طرح فِٹ رہے۔
دوسروں کے گھروں کے معاملے میں تجسس میں لگے رہنا یہ تمام کام انسان کی اخلاقی کمزوری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
آج کل یہ رواج بنا لیا ہے کہ خاندان اور پڑوس کی ہر گھر کی خبر رکھنا۔ جن باتوں سے اِن کا کوئی سروکار نہیں لیکن پھر بھی معلومات میں اضافے کے لیے اور حسد کے سبب دوسروں کی باتیں جاننا اپنے اوپر لازم کرلیتے ہیں۔
اور اکثر اوقات آس پڑوس میں ٹوہ لینا اور آنے جانے والوں پر نظر رکھنا جھگڑے اور کا باعث بنتا ہے اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے اُس میں اپنی مرضی کی جھوٹی کہانیوں کی ملاوٹ کرنا۔
ایک دوسرے میں لڑائی پھوٹ ڈلوانے کے لیے ہر حد سے گزرنا ہمارے معاشرے میں یہ باطنی بیماریاں شدید جڑ پکڑتی جارہی ہیں جن کی وجہ سے کبھی نا ختم ہونے والی نفرتیں پھیل رہی ہیں۔
جنھیں ان بیماریوں کی عادت ہے اُن کی وجہ سے لڑائی ہی ڈلتی ہے۔
زرا سوچیے
آپ میں یہ عادات ہیں تو ان سے پیچھا چھڑاکر اپنی روح کو ان بیماریوں سے بچائیں۔
دوسروں کے معاملات کی کھوج لگانے کے بجائے ایک تسبیح استغفر الله یاں الحمد لله کی کرلیا کریں۔
لگائی بجھائی کے بجائے اپنی اولاد کی تربیت پر وقت صرف کریں۔ کوئی مثبت مشغلہ اپنا لیں اُس پر دھیان لگائیں بجائے ان باطنی بیماریوں سے اپنی سوچ کو شر آلود کرنے کے اور دوسروں کا بھی سکون و چین خراب کرنے کے۔
جھوٹ پھیلانے اور فساد کو بڑھانے میں اپنا حصہ ڈالنے سے خود کو بچائیں۔
کیوں کہ جھوٹ کتنا ہی بھلا کیوں نہ لگ رہا ہو اِس کےعیاں ہونے کا ایک وقت مقر ضرور ہوتا ہے۔
یقین جانیں ان عادات کی وجہ سے کنبے کے کنبے اجڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے آس پاس کچھ افراد بظاہر آپ سے ہمدردی جتا کر رشتوں میں بلخصوص میاں بیوی کے مابین بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہوتے ہیں اور اکثر اوقات جھگڑا بڑھنے سے نوبت طلاقوں تک پہنچ جاتی ہے۔ایسے شر پسند لوگوں سے خود کو اور اپنے گھر کو محفوظ بنانا آپ کی ذمہ داری ہے۔
کیوں کہ میاں بیوی میں پھوٹ ڈلوانا شیطان کا پسندیدہ فعل ہے۔اگر آپ کو اس عمل سے تقویت مل رہی ہے تو برائے مہربانی اپنا محاسبہ کیجیے۔
شیطان کے مددگار مت بنیے۔
ایک دوسرے کا ذہنی سکون برباد مت کیجیے۔
آپ کہ یہ چھوٹی چھوٹی حرکات دوسرے کے لیے تکلیف کا سبب ہوسکتی ہیں۔ اور آپکے لیے صرف و صرف گناہ کا سب ہوں گی کیوں کہ کسی بھی طرح سے شر اور فساد کا حصہ بن کر آپ اس کے شر سے بچ سکیں گے بھلے لاکھ دامن بچانا چاہیں۔
اپنی سوچوں کو دوسروں کے خلاف سازشوں سے پاک رکھیں۔
اپنے دل کو دوسروں کے خلاف کینہ حسد س پاک رکھیں۔
اپنی سوچوں کو دوسروں کے خلاف سازشوں سے پاک رکھیں
چار دن کی زندگی کو نفرتوں کی بھینٹ چڑھا کر ایک دوسرے کے لیے جینا محال مت کریں۔۔
اور اگر کوئی آپ کا جینا محال کر رہا ہے تو ایسے زہر آلود افراد کو اپنی زندگی سے نکال باہر کجیے۔
10 October
یہ پیغام دے رہا ہےکہ ایک دوسرے کا ذہنی سکون خراب مت کریں۔
کسی کے لیے اگر اچھا نہیں کرسکتے تو بُرا بھی مت کیجیے۔ دوسروں کی ٹوہ لینے کے بجائے ان کی آواز بنیں , ان کا ساتھ دیں۔ اسی میں ہماری اور ہمارے گھر کی بھلائی ہے
شکریہ












Comments
Post a Comment