وکلاء ڈاکٹرز تنازعہ - پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی`
لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا۔ یہ واقعہ کئی گھنٹوں تک ٹی وی چینلز پر نشر ہوتا رہا اور سوشل میڈیا پر بھی اس پر بہت بحث ہوئی۔
واقعہ کیسے شروع ہوا؟
کہا جاتا ہے کہ اس واقعے سے چند روز قبل ہسپتال میں ایک مریض کے علاج کے معاملے پر وکلاء اور ہسپتال کے عملے کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ بعد میں اس معاملے کو دونوں فریقین کی جانب سے افہام و تفہیم سے حل بھی کر لیا گیا تھا۔
لیکن اسی دوران ڈاکٹروں کی ایک نجی گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد غلط فہمیاں مزید بڑھ گئیں اور معاملہ شدت اختیار کر گیا۔
اس دن کیا ہوا؟
11 دسمبر 2019 کو وکلاء کی ایک بڑی تعداد ہسپتال پہنچی اور وہاں احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے دوران ہسپتال کی املاک کو نقصان پہنچا اور ہسپتال کا نظام کئی گھنٹوں تک معطل رہا۔
اس ہنگامی صورتحال کی وجہ سے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ کو کئی مریضوں کو حفاظتی طور پر دوسرے وارڈز میں منتقل کرنا پڑا۔ اس دوران پنجاب کے وزیر اطلاعات بھی وہاں موجود تھے جنہیں بھی اس ہجوم کا سامنا کرنا پڑا۔
اس واقعے کا اثر
ہسپتال وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنی جان بچانے جاتا ہے۔ ایسی جگہ پر اس طرح کی صورتحال پیدا ہونا نہ صرف مریضوں کے لیے تکلیف دہ تھا بلکہ پورے ملک کے لیے ایک تشویشناک لمحہ تھا۔ یہ خبر بین الاقوامی میڈیا پر بھی نشر ہوئی۔
ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں برداشت کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ چھوٹی سی بات کو بڑا مسئلہ بنا لینا اور قانون کو ہاتھ میں لینا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
وکیل اور ڈاکٹر دونوں ہی ہمارے معاشرے کے اہم ستون ہیں۔ ایک انصاف دلاتا ہے اور دوسرا جان بچاتا ہے۔ دونوں کا احترام ہم سب پر لازم ہے۔ اگر کسی بات پر اختلاف ہو بھی جائے تو اس کو بات چیت اور قانونی طریقے سے حل کرنا چاہیے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو بھی یہ تربیت دینی چاہیے کہ غصے پر قابو رکھنا اصل بہادری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر اور حکمت عطا فرمائے۔
آمین۔

Very poor situation, ham sherminda hain Pakistan...
ReplyDeleteجی۔ جنہیں شرم سار ہونا چاہیۓ وہ الٹا اکڑ رہے ہیں
Delete