یومِ حیا

 





یومِ حیا کی اہمیت - حیا ایمان کا حصہ ہے


حیا اسلام کا ایک بنیادی وصف ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے "حیا ایمان کا حصہ ہے"۔

آج کے دور میں جہاں بے حیائی کو عام کیا جا رہا ہے، وہاں یومِ حیا منانے کا مقصد نوجوان نسل کو حیا کی اہمیت بتانا ہے۔

اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو حیا کا حکم دیا ہے۔ عورت کے لیے پردہ اور مرد کے لیے نگاہوں کی حفاظت دونوں ضروری ہیں۔

حیا انسان کا سب سے قیمتی زیور ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو انسان کو جانوروں سے الگ کرتی ہے۔

حدیث مبارکہ میں حیا کا مقام:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 "بے شک ہر دین کا ایک خلق ہوتا ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے۔"

 ایک اور جگہ فرمایا: 

"حیا ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں لے جاتا ہے۔"

حیا صرف عورت کے لیے نہیں:
ہمارے معاشرے میں سمجھا جاتا ہے کہ حیا صرف عورت کے لیے ہے، حالانکہ اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو حیا کا حکم دیا ہے۔

- مرد کی حیا اس کی نظروں میں ہے

- عورت کی حیا اس کے پردے میں ہے

- زبان کی حیا سچ بولنے میں ہے

- 

کان کی حیا بری بات نہ سننے میں ہے

حیا کے فائدے:

1. حیا دار انسان معاشرے میں عزت پاتا ہے

2. حیا انسان کو گناہوں سے روکتی ہے

3. جس گھر میں حیا ہو وہاں برکت ہوتی ہے

4. حیا سے خاندانی نظام مضبوط ہوتا ہے

آج کے دور میں حیا کیسے اپنائیں؟


سوشل میڈیا، ٹک ٹاک اور فیشن کے اس دور میں حیا کو اپنانا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت بچپن سے ہی حیا پر کرنی چاہیے۔ موبائل کے غلط استعمال سے بچنا اور اچھے دوستوں کا انتخاب کرنا بھی حیا کا حصہ ہے۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ اگر حیا ختم ہو جائے تو انسان سے سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ آئیں ہم سب یومِ حیا کے موقع پر عہد کریں کہ ہم خود بھی با حیا بنیں گے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں گے۔



ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو حیا کی تعلیم دیں اور خود بھی با حیا بنیں۔ یہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔

یومِ حیا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری ثقافت اور دین حیا دار ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

ظالم کا انجام - فرعون سے ہٹلر تک عبرت کی کہانیاں

May2025 کی صورتِ حال پر ایک نظر۔ امید کی کرن

عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو - خطبہ حجۃ الوداع کا بھولا ہوا پیغام