عورت کا پردہ یاں مرد کی تربیت اصل مسئلہ کیا ہے؟
![]() |
| عورتوں کے معاملے میں مردوں نے اللہ سے ڈرنا تھا |
عورت کا پردہ یاں مرد کی تربیت اصل مسئلہ کیا ہے؟
کہتے ہیں کہ عورت گھر میں رہے گی تو فتنے نہیں پھیلیں گے۔ معاشرے کے ہر بگاڑ کو عورت سے جوڑا جاتا ہے اس کے لباس سے اس کے انداز سے۔ اس کی چال سے۔
لیکن ہمارے معاشرے کے مسائل کی اصل وجہ کیا عورت ہی ہے؟ یاں اصل وجہ سے جی چرانے کے لیے اوپر بیان وجوہات ہم نے خود سے گڑھ لی ہیں؟
آئے دن ہراسانی کے واقعات ہماری نظروں سےگزرتے ہیں یہ کون کرتا ہے؟
کیا سڑک پر چلتے مردوں کو عورتیں تنگ کرتی ہیں؟ آتے جاتے اشارے کرتی ہیں ؟
عزت پر حملہ کون کرتا ہے مرد یاں عورت ؟
تیزاب گردی کون کرتا ہے؟
کیا آپ نے اپنی زندگی میں کبھی سنا ہے کہ کسی عورت نے کسی مرد پر تیزاب پھینکا ہو؟
یاں رہ چلتے آواز کسی ہو یاں ہاتھ لگایا ہو؟
اسکول کالج یونیورسٹوں میں بچیوں کو بلیک میل کرنا ۔ ان سے ناجائز مطالبات کرنا پھر انکار کیے جانے کی صورت امتحان میں فیل کردینے کی دھمکی دینا۔
نبی پاک ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر نم آنکھوں سے فرمایا تھا کہ "عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو"_
کیا یہ حکم اپنے بیٹوں کی تربیت کرتے وقت ہم دھیان میں رکھتے ہیں؟
اور اس وقت حال یہ ہوچکا ہے کہ چند ماہ کی بچی کی عزت بھی محفوظ نہیں ہے۔
لڑکی کا منہ ڈھک دو
سر ڈھک لو
سینہ ڈھانپ لو ۔
تنگ کپڑے مت پہناؤ تو ہی وہ محفوظ رہے گی؟
پردہ اللہ کا حکم ہے بیشک اللہ کا حکم سر آنکھوں پر۔ مگر یہ حقیقت بھی افسوس ناک ہےکہ ہمارے ہاں زیادہ تر خواتین مردوں کی ُبُری نظروں سے بچانے کے لیے خود کو ڈھکتی ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم گھروں میں اپنے بیٹوں کے سامنے اپنی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کی عزت کریں، تاکہ کل یہی بیٹے گھر سے باہر دوسروں کی بہن بیٹیوں کی عزت کرنا سیکھیں۔ اور بیٹے کو یہ سکھانے میں ماں سے زیادہ اہم کردار والد کا ہے۔ کیوں کہ بیٹے کی زندگی میں سب سے پہلے باپ ہی اس کا رول ماڈل ہوتا ہے۔ اسلیے والد پر ماں سے زیادہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
آئے دن اس طرح کی خبریں ہمارے دلوں کو چھلنی کردیتی ہیں۔
اسکول کالج دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلنے والی بچیوں کے گھر والے ان کے خیر و عافیت سے واپس گھر لوٹ آنے تک بے چین رہتے ہیں۔
اب ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ہر فرد کو یہ ذمہ داری سنبھالنی ہوگی۔ تاکہ ہمارے معاشرے میں ہر عورت ہر بچی خود کو محفوظ سمجھے۔
بیٹوں کو تعلیم اور دیگر سہولیات مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ والدین کو ان کی تریت میں یہ بنیادی باتیں بھی شامل کرنی چاہیے کہ ان کی موجودگی کسی دوسرے کی بیٹی کے لیےخوف یاں پریشانی کاباعث نا ہو۔
اس بارے میں زرا نہیں
پورا سوچیں۔۔
شکریہ
میں نے یہ تحریر ارد گرد کے حالات و واقعات دیکھتے ہوئے لکھی ہے۔


Comments
Post a Comment