ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کی اہلیہ کا انتقال۔
ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کی اہلیہ ڈاکٹر سیتی حسمہ کا 100 سال کی عمر میں انتقال
افسوس ناک خبر ملائیشیا کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے ڈاکٹر مہاتیر محمد کی اہلیہ ڈاکٹر سیتی حسمہ محمد علی 28 ستمبر 2026 کو 100 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
ان کی وفات نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کوالالمپور میں صبح 9 بج کر 20 منٹ پر ہوئی۔ ان کے بیٹے مخریز مہاتیر کے مطابق ان کی والدہ کی طبیعت رات تک بالکل ٹھیک تھی، لیکن صبح اچانک دل میں تکلیف ہوئی۔
70 سالہ مثالی شادی:
ڈاکٹر مہاتیر اور ڈاکٹر سیتی حسمہ کی شادی 5 اگست 1956 کو ہوئی تھی۔ یعنی ان کی رفاقت 70 سال سے زیادہ پر محیط تھی۔ دونوں کی پہلی ملاقات 1940 کی دہائی میں سنگاپور کے کنگ ایڈورڈ ہفتم میڈیکل کالج میں ہوئی تھی، جہاں دونوں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
سیتی حسمہ اس دور کی پہلی ملائی خاتون تھیں جنہیں میڈیکل کالج میں داخلہ ملا۔ بعد میں وہ ملائیشیا کی پہلی خاتون میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ آفیسر بنیں۔
مہاتیر محمد ہمیشہ کہتے تھے کہ "میری بیوی میری کامیابی کی ریڑھ کی ہڈی ہے"۔
وائرل ویڈیو جس نے دنیا کو رُلا دیا:
جنازے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہے۔ 101 سالہ مہاتیر محمد وہیل چیئر پر، ناک پر آکسیجن لگا ہے, اپنی اہلیہ کے جنازے کے پاس بیٹھے زار و قطار رو رہے ہیں۔ جب پہانگ کے سلطان تعزیت کے لیے آئے تو مہاتیر نے کہا:
"مجھے امید نہیں تھی کہ وہ آج چلی جائے گی، کل رات تو وہ بالکل ٹھیک تھی"
اس منظر نے ثابت کر دیا کہ زندگی میں اقتدار، عمر اور طاقت سے بڑھ کر سچی محبت اور وفا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔"
(سورہ روم: 21)
میاں بیوی کا رشتہ دنیا کا سب سے حسین اور وفا والا رشتہ ہے۔ جوانی میں تو ہر رشتہ ساتھ دیتا ہے، لیکن اصل محبت کا امتحان بڑھاپے میں ہوتا ہے۔ جب اولاد اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہے، جسم کمزور ہو جاتا ہے اور دنیا ساتھ چھوڑ دیتی ہے، تب ایک میاں کے لیے اس کی بیوی اور ایک بیوی کے لیے اس کا شوہر ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ 70 سال ساتھ چلنے کا مطلب صرف 70 سال نہیں، بلکہ دکھ سکھ، بیماری تندرستی، غربت امیری، اقتدار اور تنہائی کے 25,000 دن ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھنا ہے۔ بڑھاپے میں ایک دوسرے کی دوائی کا خیال رکھنا، رات کو ایک گلاس پانی دے دینا، اور بس پاس بیٹھے رہنا، یہی وہ محبت ہے جس کا کوئی مول نہیں۔ مہاتیر محمد کے آنسوؤں نے بتا دیا کہ 101 سال کی عمر میں بھی انسان کو سب سے زیادہ ضرورت اپنے جیون ساتھی کی ہی ہوتی ہے۔
70 سال تک ایک دوسرے کا ساتھ نبھانا، دکھ سکھ میں ساتھ رہنا، یہی مودت و رحمت ہے۔ آج کے دور میں جہاں شادیاں چند سال بھی نہیں چلتیں، وہاں 70 سالہ رفاقت نوجوان نسل کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔
تدفین:
انہیں ملائیشیا کے انتظامی دارالحکومت پتراجایا کے قومی مزار میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ وزیر اعظم انور ابراہیم سمیت پوری قوم نے ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔
"اللہ تعالیٰ مرحومہ Siti Hasmah کو جنت الفردوس میں جگہ دے، اور ڈاکٹر مہاتیر کو صبرِ جمیل عطا فرمائیں"۔
آمین۔

Comments
Post a Comment