
ٹرمینیٹر بیج، ہائبرڈ بیج اور بغیر بیج والا پھل
فرق کیا ہے؟
آج کل مارکیٹ میں 3 طرح کے بیجوں کا ذکر ہو رہا ہے اور لوگ ان میں کنفیوز ہو رہے ہیں۔
پہلی قسم: عام بیج جس پر رنگ لگا ہوتا ہے
یہ سب سے عام بیج ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا بیج پر گلابی یا ہرا رنگ لگا ہوتا ہے۔ یہ کوئی جینیاتی تبدیلی نہیں، صرف اوپر کی دوا ہے تاکہ بیج کو سٹور میں کیڑا نہ لگے۔ یہ دوا پانی سے دھل جاتی ہے۔ کسان اس سے اگنے والی فصل سے اگلے سال کے لیے بیج آرام سے بچا سکتا ہے۔ یہ بالکل محفوظ ہے۔
دوسری قسم: بغیر بیج والے پھل جیسے تربوز اور انگور۔
یہ لیبارٹری میں
DNA
تبدیل کر کے نہیں بنتے۔ یہ ہائبرڈ طریقے سے بنتے ہیں۔ مطلب سائنس دان دو مختلف قسم کے پودوں کا قدرتی ملاپ کراتے ہیں۔ جیسے بغیر بیج کے تربوز میں کروموسوم کی تعداد 2 سے 3 کر دی جاتی ہے، جس سے اس کے بیج بننا بند ہو جاتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی 30 سال سے دنیا میں استعمال ہو رہی ہے اور اسے صحت کے لیے خطرناک نہیں سمجھا جاتا۔
تیسری اور اصل خطرناک قسم: بانجھ یا ٹرمینیٹر بیج
اسے سائنس کی زبان میں GURT کہا جاتا ہے۔ یہ 1998 میں امریکہ میں لیبارٹری میں بنایا گیا تھا۔ اس میں ایسا جین ڈالا گیا تھا کہ پودا پہلی بار تو اگتا ہے اور فصل بھی دیتا ہے، لیکن اس فصل کے اندر جو نیا بیج بنتا ہے وہ اندر سے مردہ ہوتا ہے۔ وہ دوبارہ زمین میں ڈالو تو اگتا ہی نہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کسان کو ہر سال مجبوراً کمپنی سے نیا بیج خریدنا پڑے گا۔
دنیا بھر میں اس پر اتنا احتجاج ہوا کہ اقوام متحدہ نے 2000 میں اس ٹیکنالوجی پر پابندی لگا دی۔ دنیا کی سب سے بڑی بیج کمپنی Monsanto نے خود اعلان کیا کہ ہم یہ بیج کبھی بھی مارکیٹ میں نہیں بیچیں گے۔ اس لیے یہ بات صاف ہے کہ ٹرمینیٹر بیج آج تک دنیا کی کسی دکان پر نہیں بکا۔
میں فرقHybrid اور GMO
سے مرادHybrid
دو دیسی نسلوں کا قدرتی
ملاپ، جیسے دیسی مرغ اور ولایتی مرغ کا بچہ۔
لیب میں اس کے
DNA
میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔
GMO / Terminator سے مراد:
لیب میں
DNA
کے اندر جین ڈالنا، جیسے مچھلی کا جین ٹماٹر میں ڈالنا۔
تو پھر آج کسان پریشان کیوں ہے؟
آج جو بیج مارکیٹ میں مہنگا بک رہا ہے وہ ٹرمینیٹر نہیں، بلکہ ہائبرڈ بیج ہے، جیسے بی ٹی کاٹن، ہائبرڈ مکئی، ہائبرڈ سبزیاں۔ یہ بانجھ تو نہیں ہوتا، لیکن اس کی دوسری نسل کی پیداوار 50 فیصد کم ہو جاتی ہے۔ کمپنی خود کہتی ہے کہ ہر سال نیا بیج لو تو ہی زیادہ پیداوار آئے گی۔ نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ٹرمینیٹر کا تھا۔ کسان ہر سال کمپنی کا محتاج۔
بھارت اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ وہاں بی ٹی کاٹن کا بیج دیسی بیج سے 4 سے 5 گنا مہنگا ہے۔ شروع میں 3-4 سال پیداوار بہت بڑھی، لیکن پھر کیڑوں میں اس دوا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو گئی۔ پیداوار گرنے لگی، لیکن بیج کی قیمت وہی مہنگی رہی۔ چھوٹے کسان نے قرض لے کر بیج خریدا، فصل خراب ہوئی تو قرض نہ اتر سکا۔ بھارتی حکومت کی اپنی رپورٹس کہتی ہیں کہ کسانوں پر قرض کا دباؤ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ مہنگے بیج ہیں۔
پاکستان میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ PARC اور سیڈ اتھارٹی بی ٹی کاٹن اور جی ایم او مکئی پر کام کر رہی ہے۔ مقصد پیداوار بڑھانا بتایا جاتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا چھوٹا کسان جس کے پاس 5 ایکڑ زمین ہے، وہ ہر سال 10 ہزار کا بیج خرید سکے گا؟
اس کے 3 بڑے نقصان ہیں۔
پہلا یہ کہ خوراک کا تحفظ خطرے میں ہے۔ اگر بیج کا کنٹرول 3-4 بڑی غیر ملکی کمپنیوں کے پاس چلا گیا تو کل کو وہ جس قیمت پر چاہیں گی بیج بیچیں گی۔
اور دوسرا ہمارے دیسی بیج جو صدیوں سے ہمارے گرم موسم اور کم پانی میں اگتے آ رہے ہیں، وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔
تیسرا جی ایم او فصلوں کی پولینیشن ہوا کے ذریعے ساتھ والے کھیت کی دیسی فصل میں جا سکتی ہے اور اسے بھی تبدیل کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے یورپ کے کئی ملکوں نے جی ایم او پر پابندی لگا رکھی ہے۔
حل ؟
حکومت کوئی بھی نیا بیج لانے سے پہلے اس کے 10 سالہ اثرات پر کھلی اور آزاد تحقیق کرے۔ ہر ضلع میں دیسی بیج بینک بنائے جائیں۔
پاکستان کے سیڈ ایکٹ 1976 کے تحت کسان کو اپنی فصل سے بیج بچانے کا حق حاصل ہے، کسی کمپنی کو اس حق کو ختم کرنے کی اجازت نہیں۔
کسان کیا کر سکتا ہے؟
اپنے گاؤں کے 10 پرانے کسانوں سے دیسی بیج لے کر ایک چھوٹا بیج بینک بنا لے۔ وہ بیج نہ صرف مفت ہے بلکہ ہمارے موسم کا عادی بھی ہے۔
یاد رکھیں ٹیکنالوجی بری نہیں ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے نام پر غریب کسان کو ہر سال کمپنی کا غلام بنا دینا ترقی نہیں ہے۔
Comments
Post a Comment